بچوں سے جنسی زیادتی کے مجرمان کو جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کا قانون منظور
شائع شدہ تاریخ 04 جولائی, 2020
آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے کم عمر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مرتکب مجرمان کو سخت سزا دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے انہیں جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کی سزا کا قانون پاس کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے بدھ کے روز متفقہ طور پر بچوں کے ساتھ بدفعلی کرنے کے جرم کی سزا کا بل منظو رکیا، اس بل میں مجرمان کیلئےدیگر سخت ترین سزائیں بھی رکھی گئی ہیں۔ بل کے منظور ہوتے ہی انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے تشویش کا اظہار کیا ہے جس پر وزیر برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ احمد رضا قادری کہا کہنا تھا کہ میں ان تنظیموں کا احتجاج مسترد کرتا ہوں، کیونکہ یہ لوگ تو سزائے موت سمیت دیگر سزاؤں پر بھی اعتراض کرتےکرتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ناقابل تلافی جرم ہے، جس کی سخت سے سخت سزا ہونی چاہیے تاکہ اس جرم کی روک تھام کی جاسکے،صرف مخصوص سرجنز ہی مجرموں کو جنسی زیادتی سے محروم کرنےکے مجاز ہوں گے۔ اگر کسی مجرم کو جنسی زیادتی سے محروم کرنے سے اس کی جان کو خطرہ لاحق ہو تو کیمیائی طریقے سےیہ عمل کیا جائے۔ منظورشدہ بل کے مطابق یہ سزا کم عمر بچوں کے ساتھ زنا بالجبر یا غیر فطری عمل دونوں صورتوں میں دی جائے گی، تاہم جرم کی کوشش کرنے والے کو دس برس قید اور جرمانے کی سزا دی جاسکے گی۔ آزاد کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں نے اس بل کی حمایت کی ہے،تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں اس قانون کو قرون وسطی کی باقیات سے تعبیر کررہی ہیں۔