بارشوں میں انگلیوں کے درمیان خارش کی اصل وجہ کیا ہے؟
شائع شدہ تاریخ 25 جولائی, 2026
مون سون کے موسم میں نمی اور پسینے میں اضافے کے باعث انگلیوں کے درمیان ہونے والے فنگل انفیکشن (کوکیی انفیکشن) کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوجاتا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ عام تاثر کے برعکس بارش کا پانی خود انفیکشن کا سبب نہیں بنتا، بلکہ جلد کا طویل عرصے تک گیلا رہنا اور نمی فنگس کی افزائش کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔
بھارتی ماہر امراضِ جلد ڈاکٹر اپوروا شرما کے مطابق ذیابیطس، موٹاپے، کمزور مدافعتی نظام اور ضرورت سے زیادہ پسینہ آنے والے افراد میں فنگل انفیکشن کا خطرہ دوسروں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ ایسے مریضوں میں انفیکشن دیر سے ختم ہوتا ہے اور دوبارہ ہونے کے امکانات بھی زیادہ رہتے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ فنگل انفیکشن عموماً جسم کے ان حصوں میں پیدا ہوتا ہے جہاں نمی اور پسینہ زیادہ جمع ہوتا ہے، جیسے بغلیں، رانیں، کمر، گردن، چھاتیوں کے نیچے کی جلد، انگلیوں کے درمیان، پاؤں اور کھوپڑی۔ اس کی ابتدائی علامات میں شدید خارش، جلد کا سرخ ہونا، جلن، خارش والے دھبے اور جلد کا اکھڑنا شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مون سون کے دوران گیلے کپڑے پہننے، پسینے والے لباس میں زیادہ دیر رہنے، گیلے جوتے اور موزے استعمال کرنے یا تنگ لباس پہننے سے انفیکشن کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے جلد کو ہر ممکن حد تک خشک رکھنا ضروری ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق بارش کے موسم میں ہوا میں نمی بڑھنے سے کھوپڑی زیادہ دیر تک گیلی رہتی ہے، جس سے فنگس اور بیکٹیریا تیزی سے بڑھتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں خشکی، کھجلی، سر کی جلد میں چکنائی اور بعض اوقات بالوں کے جھڑنے جیسے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بارش میں بھیگنے کے بعد بالوں کو خشک کیے بغیر باندھ لینا یا دیر تک گیلا چھوڑ دینا کھوپڑی میں انفیکشن کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ بارش میں بھیگنے کے بعد بالوں کو صاف پانی سے دھو کر اچھی طرح خشک کیا جائے۔
خود علاج سے گریز کریں
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خارش یا داد کی صورت میں ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر میڈیکل اسٹور سے کریم خرید کر استعمال کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
بعض کریموں میں موجود اسٹیرائیڈ وقتی طور پر خارش تو کم کر دیتے ہیں، لیکن فنگل انفیکشن اندر ہی اندر بڑھتا رہتا ہے، جس سے بعد میں علاج زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔
اسی طرح علامات میں کمی آتے ہی دوا بند کرنا بھی ایک عام غلطی ہے۔ ماہرین کے مطابق فنگس مکمل طور پر ختم ہونے تک ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق علاج جاری رکھنا ضروری ہے، ورنہ انفیکشن دوبارہ لوٹ سکتا ہے۔
بچاؤ کے آسان طریقے
ماہرین صحت کے مطابق مون سون میں فنگل انفیکشن سے بچنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر انتہائی مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔
جلد اور کھوپڑی کو صاف اور خشک رکھیں۔
پسینہ آنے پر فوراً کپڑے تبدیل کریں۔
گیلے جوتے اور موزے زیادہ دیر تک نہ پہنیں۔
ڈھیلے ڈھالے اور سوتی کپڑوں کا استعمال کریں۔
متوازن غذا اختیار کریں تاکہ مدافعتی نظام مضبوط رہے۔
جلد یا بالوں کی کوئی بھی دوا یا کریم ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر استعمال نہ کریں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت تشخیص، مکمل علاج اور مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کرکے فنگل انفیکشن سے نہ صرف بچا جا سکتا ہے بلکہ اس کے دوبارہ ہونے کے امکانات بھی نمایاں حد تک کم کیے جا سکتے ہیں۔