اگر پی ٹی آئی حکومت کو بلوچستان کو اپنے ساتھ لیکرچلنا ہے تو انہیں زہر کا پیالہ پینا پڑے گا:اختر مینگل
شائع شدہ تاریخ 20 جون, 2020
اگر پی ٹی آئی حکومت کو بلوچستان کو اپنے ساتھ لیکرچلنا ہے تو انہیں زہر کا پیالہ پینا پڑے گا ورنہ یہ آگے چل نہیں پائیں گے۔ اختر مینگل بلوچستان نیشنل پارٹی کے صدر سردار اختر مینگل نے وائس آف امریکہ اردو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے جتنی کمیٹیاں بنائی ہیں اتنے ہمارے مسئلے ہمارے حل ہوجاتے تو بات یہاں تک نہ پہنچتی۔ حکومت ملنے سے پہلے پی ٹی آئی مسنگ پرسنز کے معاملے میں ہمارے موقف سے متفق تھی، اب ہمیں علم نہیں کہ عمران خان کی کیا مجبوری ہے یا ان کے ہاتھ بندھے ہیں۔ اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت نہیں بن پارہی تھی، ہم نے انہیں ووٹ دیا، اب انکی ذمہ داری تھی کہ وہ بلوچستان کے مسائل حل کریں اور کچھ نہیں تو کم از کم 20 فیصد تو ہمارے مطالبات پر کام ہوجاتا۔ہم نے حکومت کو جو لسٹ دی تھی اسکے مطابق مسنگ پرسنز 5000 سے زائد تھے لیکن اس حکومت میں 418 افراد بازیاب ہوئے۔ اختر مینگل نے مزید کہا کہ مشرف دور میں بھی بلوچستان کے حوالے سے میڈیا پر اتنی قدغنیں نہیں تھیں جتنی جمہوری حکومتوں کے دور میں لگیں، ایسا لگ رہا ہے کہ پورا پاکستان اسٹیبلشمنٹ کے رحم وکرم پہ ہے اختر مینگل کا کہنا تھا کہ سی پیک کی مد میں لی گئی امداد اور قرضوں کی رقوم کا پانچ فیصد بھی بلوچستان میں استعمال نہیں ہوا، گیس ہمارے صوبے میں پیدا ہوتی ہے لیکن اسکے باوجود بلوچستان کے لوگ لکڑیوں سے گزارا کررہے ہیں اخترمینگل نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی حکومت کو بلوچستان کو اپنے ساتھ لیکرچلنا ہے تو انہیں زہر کا پیالہ پینا پڑے گا، اگر انہوں (پی ٹی آئی) نے بلوچستان سے جان چھڑانی ہے تو یہ جس طرح پہلے چلتے آئے ہیں یہ آگے چل نہیں پائیں گے۔