اسحاق ڈار، امریکا ایران مذاکرات کا اگلا مرحلہ پہلے سے زیادہ مشکل ہوگا
شائع شدہ تاریخ 22 جون, 2026
تفصیلات کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے العربیہ ٹی وی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں خطے کی صورتحال اور پاکستان کے سفارتی کردار پر تفصیلی گفتگو کی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کا اگلا مرحلہ پہلے سے کہیں زیادہ مشکل اور پیچیدہ ہوگا، تاہم دونوں ممالک نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ تمام تر تنازعات کا واحد حل صرف اور صرف سفارت کاری ہے۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خطرات انتہائی تباہ کن تھے، جس نے عالمی معیشت پر انتہائی منفی اور گہرے اثرات مرتب کیے۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان بیک ڈور ڈپلومیسی اور مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے تین تکنیکی ٹیمیں سرگرم عمل ہیں اور اہم ترین معاملات پر تفصیلی بات چیت کر رہی ہیں:
دونوں ممالک کے درمیان ایران کے یورینیم افزودگی کے ذخائر کو کم ترین سطح پر لانے کے لیے اہم اتفاق ہو گیا ہے، ایران کے عالمی بینکوں میں روک دیے گئے اثاثوں کی واپسی کے طریقہ کار پر غور جاری ہے جبکہ مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص لبنان کی موجودہ کشیدہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے مشاورت کی جا رہی ہے۔
اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان نے خطے میں امن قائم کرنے کے لیے اپنے دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس نازک ثالثی کو کامیاب بنایا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام تر مشکلات کے باوجود جاری مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھیں گے جو کہ عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے۔