ابلے ہوئے انڈے کھانے والوں کیلئے اہم بات سامنے آگئی

شائع شدہ تاریخ 20 اگست, 2026
ابلے-ہوئے-انڈے-کھانے-والوں-کیلئے-اہم-بات-سامنے-آگئی

تاہم ماہرین کے مطابق انڈوں کا ضرورت سے زیادہ استعمال بعض افراد کے لیے مسائل کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے اعتدال ضروری ہے۔

انڈے کی زردی میں کولیسٹرول موجود ہوتا ہے، تاہم زیادہ تر صحت مند افراد کے لیے مناسب مقدار میں انڈے کھانا محفوظ سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق زیادہ تر صحت مند افراد ہفتے میں سات انڈے تک کھاسکتے ہیں۔ البتہ جن افراد کو پہلے سے کولیسٹرول کا مسئلہ یا دل کی بیماری ہو، انہیں اپنی غذا کے بارے میں ڈاکٹر یا ماہر غذائیت سے مشورہ کرنا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق انڈے پروٹین کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ایک انڈے میں تقریباً 6 سے 7 گرام پروٹین کے علاوہ وٹامن اے، بی 6، بی 12، ڈی اور ای، فولیٹ، سیلینیم، فاسفورس اور کولین جیسے اہم غذائی اجزا پائے جاتے ہیں۔ انڈے میں موجود لیوٹین اور زیکسینتھین آنکھوں کی صحت کے لیے بھی مفید سمجھے جاتے ہیں۔

پروٹین کا مکمل ذریعہ

انڈے میں موجود پروٹین کو مکمل پروٹین قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس میں جسم کے لیے ضروری تمام امینو ایسڈز شامل ہوتے ہیں۔ عام تاثر کے برعکس انڈے کا پروٹین صرف سفیدی میں نہیں ہوتا بلکہ اس کا ایک بڑا حصہ زردی سے بھی حاصل ہوتا ہے۔ انڈے وٹامن ڈی، وٹامن بی 12، بایوٹین، ربوفلاوین، سیلینیم اور آیوڈین جیسے غذائی اجزا بھی فراہم کرتے ہیں۔

کیا انڈے دل کے لیے فائدہ مند ہیں؟

ماہرین کے مطابق دل کی صحت برقرار رکھنے کے لیے مجموعی خوراک پر توجہ دینا زیادہ اہم ہے، خاص طور پر سیچوریٹڈ چکنائی کم اور غیر سیر شدہ چکنائی زیادہ استعمال کرنے کی سفارش کی جاتی ہے،انڈے متوازن غذا کا حصہ بن سکتے ہیں، تاہم انہیں بیکن، ساسیج یا زیادہ چکنائی والی دیگر غذاؤں کے ساتھ مسلسل استعمال کرنا صحت مند انتخاب نہیں۔

اکثر انڈا صحیح طرح نہ ابلا ہوا ہو تو پیٹ میں درد اور الٹی کی شکایت ہونا معمول کی بات ہے اس کے علاوہ جو لوگ پیٹ پھولنے کی شکایت رکھتے ہیں انہیں بھی انڈا زیادہ راس نہیں آتا۔

انڈے میں کیلوریز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جس سے وزن کم کرنے والے افراد کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خاص طور پر دو سے زائد انڈے کھانے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ زائد انڈے کھا لینے سے بلند فشار خون کی شکایت ہوسکتی ہے۔

زیادہ انڈے کھانے کے نقصانات

ضرورت سے زیادہ انڈے کھانے سے بعض افراد کو بدہضمی، گیس یا پیٹ پھولنے کی شکایت ہوسکتی ہے۔ اسی طرح کچھ لوگوں کو انڈے کی سفیدی یا زردی سے الرجی بھی ہوسکتی ہے، جس کے نتیجے میں خارش، دانے یا متلی جیسی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔

اگر روزانہ ضرورت سے زیادہ کیلوریز لی جائیں اور جسمانی سرگرمی کم ہو تو وزن میں اضافے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے انڈوں کو متوازن غذا اور مناسب جسمانی سرگرمی کے ساتھ استعمال کرنا بہتر ہے۔

ابلے ہوئے انڈے کیسے کھائیں؟

ابلے ہوئے انڈے کو سادہ طور پر نمک اور کالی مرچ کے ساتھ کھایا جا سکتا ہے۔ اسے ٹماٹر، پیاز، دھنیا اور لیموں کے رس کے ساتھ ملا کر غذائیت سے بھرپور سلاد بھی تیار کیا جاسکتا ہے۔ ناشتے میں ابلے ہوئے انڈے کے ٹکڑے ٹوسٹ پر رکھ کر کھائے جا سکتے ہیں، جبکہ انہیں چاول، روٹی یا ہلکے مصالحے کے ساتھ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق انڈے متوازن مقدار میں روزمرہ خوراک کا مفید حصہ بن سکتے ہیں، تاہم ہر فرد کی غذائی ضروریات اور صحت کی صورتحال مختلف ہوتی ہے۔