مشرف کیس: پاکستان بار کونسل کا لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنےکا اعلان
شائع شدہ تاریخ 17 جنوری, 2020
پاکستان بار کونسل (پی بی سی) کا بلامقابلہ چیئرمین منتخب ہونے کے بعد عابد ساقی نے پہلا کام لاہور ہائی کورٹ کے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کے فیصلے کو معطل کرنے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی قرار داد منظور کی۔ رپورٹ کے مطابق عابد ساقی کا تعلق عاصمہ جہانگیر گروپ سے ہے اور وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالے تصور کیے جاتے ہیں۔انتخابات سپریم کورٹ کی عمارت میں پاکستان بار کونسل کے دفتر میں ہوتے اور اجلاس کی صدارت اٹارنی جنرل انور منصور نے کی۔انتخابات کے بعد 22 رکنی پاکستان بار کونسل نے اجلاس کرتے ہوئے سبکدوش ہونے والے نائب صدر سید امجد شاہ کی خادمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔کونسل نے لاہور ہائی کورٹ کے جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کے قیام کو غیر آئینی قرار دینے کے فیصلے پر غور کیا اور کہا کہ ہائی کورٹ کی جانب سے ایسے مرحلے پر دائرہ اختیار کے حوالے سے رائے غیر ضروری تھی۔ پاکستان بار کونسل میں 28 نومبر کو سپریم کورٹ کی جانب سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے فیصلے پر بھی بحث کی گئی اور کہا گیا کہ 'آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواست کے پیچھے کچھ اور محرکات تھے'۔کونسل نے ایڈووکیٹ انعام الرحیم کے لاپتہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا اور ان کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔انہوں نے انعام الرحیم کو 'غیر قانونی طور پر حراست' میں لینے کے اقدامت کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی فیصلہ کیا۔کونسل نے عدالت عظمیٰ میں کیس میں فریق بننے کا بھی فیصلہ کیا۔ پاکستان بار کونسل نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی جوڈیشل کمیششن آف پاکستان سے تعیناتی کے حوالے سے اپنے موقف پر اپنے موقف کو دوہرایا اور اس مرحلے پر تشویش کا اظہار کیا۔کونسل کا ماننا تھا کہ جوڈیشل کمیشن قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کر رہا اور دیکھا گیا ہے کہ زیادہ تر تعیناتیاں 'غیر شفاف مرحلے اور اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بغیر کی گئی ہیں'۔کونسل نے کمیشن کو ان کی تجاویز اور صوبائی بار کونسلز کی پیشکشوں کی روشنی میں قواعد میں تبدیلیاں کرنے کا کہا گیا۔پاکستان بار کونسل نے پارلیمنٹ کو آئین کے آرٹیکل 175-اے میں ترمیم کا بھی کہا تاکہ نو تشکیل شدہ کمیشن میں عدلیہ، قانون سازوں اور بار کونسلز کی برابری کی سطح پر نمائندگی ہو۔ کونسل نے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے سول پروسیجر کوڈ اور منشیات کے فروخت و استعمال کے حوالے سے قوانین میں ترمیم کو مسترد کیا اور حکومت سے ان ترامیم سے دستبردار ہونے کا کہا۔پی بی سے نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) لاہور میں گزشتہ ماہ ہونے والے واقعے پر نوٹس لیتے ہوئے صوبائی بار کونسلز کو نظم و ضبط کے حوالے سے کارروائیاں کرنے کی ہدایت بھی دی۔نئے نائب صدر عابد ساقی کا کہنا تھا کہ آج کے بعد سے وکیلوں کی جانب سے کوئی ہڑتال یا مظاہرے نہیں کیے جائیں گے۔