حبیب جالب کی بیٹی ریڑھی لگانے پر مجبور، وائرل ویڈیو پر پنجاب حکومت خاموش
شائع شدہ تاریخ 22 اگست, 2026
طاہرہ نے مزید بتایا کہ پہلے مینوسپل کارپورییشن کے افراد نے ان کے کام کو آکر سراہا بھی تھا۔لیکن پہلے ہی دن انہیں یہ کام کرنے سے روک دیا گیا۔
طاہرہ حبیب کے مطابق‘مینوسپل کے افراد نے کہا کہ آپ حبیب جالب کی بیٹی ہیں اور ریڑھی لگا کر مزدوری کررہی ہیں ہم آپ کو سلام پیش کرتے ہیں ، میں نے انہیں جواب دیا کہ محنت میں کوئی شرم نہیں کرنی چاہیئے میں نے تو اپنے باپ سے بھی یہ ہی سیکھا ہے‘۔
لیکن کچھ دیر بعد دوسرے کچھ افراد میری ریڑھی پر آئے اور میرے جاننے والے رکشہ ڈرائیور سے (جو اس وقت وہاں موجود تھا ) کہنے لگے کہ یہ سامان سمیٹو اور کہیں اور جاؤ۔
طاہرہ نے کہا کہ ان افراد نے خود کو میونسپل کارپوریشن کا عملہ ہی ظاہر کیا تھا۔شور ہونے پر جب میں ریڑھی پر پہنچی تو میں نے وجہ پوچھی ،جس پر مجھے جواب دیا گیا کہ آپ اپنا سامان اٹھا لیں اور یہ سب بند کریں ۔
طاہرہ نے کہا کہ میں نے ہزاروں روپے خرچ کرکے یہ سامان تیار کیا تھا میں نے کس دل سے ریڑھی سمیٹی میں ہی جانتی ہوں ۔
طاہرہ نے اپنے ساتھ ہونے والے سلوک پر ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی اور سوال اٹھایا کہ نامور شاعر کی بیٹی ہونے کے باوجود جب ان کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا ہے تو ایک عام شہری کے ساتھ کیا کیا جاتا ہوگا؟ وہ بھی ایک ایسے صوبے میں جس کا نظام خود ایک خاتون وزیر اعلی کے ہاتھ میں ہو!
اس ویڈیو پر وزیر ثقافت سندھ نے بھی نوٹس لے کر طاہرہ حبیب سے رابطہ کیا تھا۔
ذولفقار علی شاہ نے طاہرہ حبیب کو یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ ان کا رابطہ گورنر پنجاب سے کروائیں گے ۔
جیوڈیجیٹل سے گفتگو میں طاہرہ نے بتایا کہ ابھی تک ان سے پنجاب حکومت میں سے کسی نے بھی رابطہ نہیں کیا ہے۔
واضح رہے کہ نامور شاعر حبیب جالب کی صاحبزادی طاہرہ حبیب جالب نے ریڑھی لگانے کے لیے جون میں ڈی سی آفس لاہور میں درخواست جمع کروائی تھی۔
درخواست کےمتن میں طاہرہ نے حکومت پنجاب سے ماڈل ریڑھی بازار منصوبے کے تحت ریڑھی لگانے کی درخواست کی تھی۔
جیو ڈیجیٹل سے گفتگو میں طاہرہ حبیب نے بتایا کہ یہ درخواست کس وجہ سے ردکی گئی انہیں اس کی وجہ نہیں معلوم ۔ ‘مجھے کہا گیا کہ آپ ریڑھی حاصل کرنے کے حکومتی پیمانے پر پوری نہیں اترتیں ، مجھے حیرت ہوئی کہ اگر کوئی وجہ تھی تو مجھے وہ جاننے کا بحیثیت شہری حق ہے اس کے باوجود مجھے کوئی وجہ نہیں بتائی گئی’۔
طاہرہ نے تصدیق کی کہ ان سے بھتہ دے کر ریڑھی لگانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے یہ درخواست پرویز رشید کو بھی بھیجی تھی کہ کوئی کارروائی کی جاسکے
طاہرہ کے مطابق‘میں 2014 سے پرائیویٹ کیب سروس چلا رہی ہوں جس سے میں نے اپنی گاڑی کی قسطیں بھری ہیں میں کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا اچھا نہیں سمجھتی اور محنت مزدوری کرنے کو ترجیح دیتی ہوں، سوال یہ ہے کہ درخواست رد کی جارہی ہے اور بھتے کا مطالبہ کیا جارہا ہے یہ کون سا قانون ہے؟’
طاہرہ نے کہا کہ میں پنجاب حکومت سے درخواست نہیں انہیں تجویز کروں گی وہ اپنے پیمانوں کو واضح اور نرم کریں تاکہ خواتین بھی اپنے روزگار کو چلا سکیں۔
بعد ازاں سندھ کے صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت نوادرات سید ذوالفقار علی شاہ نے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان اور طاہرہ حبیب جالب سے رابطہ کیا اور طاہرہ حبیب جالب کو روزگار میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
طاہرہ حبیب جالب نے صوبائی وزیر سید ذوالفقار علی شاہ سے محکمہ بلدیہ پنجاب کے رویے پر شکایت کی۔
صوبائی وزیر سید ذوالفقار علی شاہ نے متعلقہ وزیر سے بات کرکے معاملے کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
صوبائی وزیر سید ذوالفقار علی شاہ نے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان کو طاہرہ حبیب جالب سے ملاقات کرنے کی درخواست کی۔
صوبائی وزیر سید ذوالفقار علی شاہ کہا کہ حبیب جالب مرحوم کے خاندان کا خیال رکھا جائے گا پاکستان پیپلزپارٹی ان کیساتھ ہے۔