طالبان کی جانب سے لڑکیوں کی تعلیم روکے جانے پر ملالہ کا ردعمل
شائع شدہ تاریخ 10 فروری, 2026
لالہ یوسفزئی نے کہا کہ افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے حوالے سے بہت ہی خطرناک وقت ہے۔ طالبان لڑکیوں اور خواتین کو ان کے حقوق سے محروم کر رہے ہیں۔
ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ طالبان لڑکیوں سے تعلیم کا بنیادی حق چھین رہے ہیں، لڑکیاں وہاں اسکول نہیں جاسکتیں لیکن افغان لڑکیاں ہمت نہیں ہاررہیں، وہ اب بھی خفیہ اسکولوں اور آن لائن تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ طالبان خواتین کو گھر سے باہر جانے اور کام کرنےنہیں دے رہے، بچوں کامستقبل تاریک نظر آتا ہے۔
ملالہ نے طالبان کا لڑکیوں کو تعلیم کے حصول سے روکنا اسلام کے پیغام کے خلاف قرار دیا اور کہا کہ طالبان کسی بھی بچی کودین کے نام پر تعلیم سے محروم نہیں کرسکتے۔ طالبان اپنے دین کوسمجھیں،علم حاصل کرنا دین کا حصہ ہے۔
ملالہ یوسفزئی نے مطالبہ کیا کہ تمام ممالک انسانی حقوق کی بنیاد پر آگے آئیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک کی بھی ذمہ داری ہے وہ طالبان کی غیر اسلامی اقدامات کی مذمت کریں۔
ملالہ نےکہا کہ وہ افغان لڑکیوں کے ساتھ کھڑی ہیں اور اور ان کے پروجیکٹ کو سپورٹ کر رہی ہیں۔