دواؤں کی قیمتوں میں مصنوعی اضافےکاریفرنس،ارشدفاروق کی درخواستِ بریت پرفیصلہ محفوظ

شائع شدہ تاریخ 19 مئی, 2020
دواؤں-کی-قیمتوں-میں-مصنوعی-اضافےکاریفرنس،ارشدفاروق-کی-درخواستِ-بریت-پرفیصلہ-محفوظ

احتساب عدالت نے دواؤں کی قیمتوں میں مصنوعی اضافے کے ریفرنس میں سابق سیکرٹری قانون ارشد فاروق کی درخواست بریت پر فیصلہ محفوظ  کرلیا ہے۔ احتساب عدالت میں منگل کو دواؤں کی قیمتوں میں مصنوعی اضافے کے ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ سابق سیکرٹری قانون ارشد فاروق کی درخواست بریت پر فیصلہ محفوظ  کرلیا گیا۔ فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر جج محمد بشیر نے فیصلہ محفوظ کیا۔ عدالت نے فیصلہ سنانے کے لیے 8 جون کی تاریخ مقررکردی ہے۔نیب پراسیکوٹر نے ارشد فاروق کی بریت کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا کی۔ نیب پراسیکوٹر کا موقف تھا کہ ارشد فاروق کا دواؤں کی قیمتیں بڑھنے میں مرکزی کردار تھا اور ان کیخلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ نیب کا کہنا تھا کہ ارشد فاروق دواؤں کی قیمتوں کا تعین کرنے والی کمیٹی کے سربراہ رہ چکے ہیں اور انھوں نے 8 کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا۔ نیب کی جانب سے یہ بھی موقف دیا گیا کہ ملی بھگت سے دواؤں کی قیمتوں میں مصنوعی اضافہ کیا گیا تھا۔