خیبرپختونخوا میں جونیئر ڈاکٹر کورونا وائرس کنٹرول سینٹر کا سربراہ مقرر

شائع شدہ تاریخ 16 اپریل, 2020
خیبرپختونخوا-میں-جونیئر-ڈاکٹر-کورونا-وائرس-کنٹرول-سینٹر-کا-سربراہ-مقرر

پشاور: جہاں ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہورہا ہے وہیں خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت نے صوبے میں کورونا وائرس کے صوبائی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر میں ڈیٹا مینجمنٹ، لیبارٹری کوآرڈینیشن اور لاجسٹک ڈسٹری بیوشن یونٹ کی سربراہی ایک جونیئر ڈاکٹر کو دے دی گئی۔  رپورٹ کے مطابق 17 گریڈ کے افسر ڈاکٹر سید عرفان علی شاہ کو عہدہ دیے جانے پر سینئر ڈاکٹرز ناراض ہوگئے جن میں سے بہت سے لوگوں نے کہا کہ وہ مایوس ہیں اور وہ ان سے کہیں کم عمر شخص کے ماتحت کام نہیں کرنا چاہتے۔ان کے ماتحت کام کرنے والے ڈاکٹروں میں سے ایک 20 گریڈ اور تین دیگر 19 گریڈ کے افسران شامل ہیں۔انہیں ڈاکٹر سید عرفان علی شاہ کے ماتحت سینٹر کا ممبر بنا دیا گیا ہے جن کے خلاف صحت کے اعلیٰ حکام نے انکوائری کی تھی اور ان سے رقم کی بازیابی کا حکم دیا تھا۔ تاہم ڈاکٹر عرفان علی شاہ نے ان الزامات کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ ’یہ پرانی انکوائری تھی جو 2016 میں کی گئی تھی اور یہ پوائنٹ اسکورنگ کے علاوہ کچھ نہیں تھی‘۔انہوں نے کہا کہ اس وقت وہ کورونا وائرس کے رد عمل کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔ناراض سینئر ڈاکٹروں نے کہا کہ حکومت کو کورونا وائرس کے حوالے سے صوبہ بھر کی صورتحال سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے ایک سینئر شخص کو اعلی عہدہ سونپنا چاہیے تھا۔خیال رہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس کے مصدقہ کیسز میں دن بدن اضافہ دیکھا جارہا ہے اور 14 اپریل تک صوبے بھر میں 38 اموات کے ساتھ 865 افراد متاثر تھے۔ صوبے میں 3 ہزار 345 ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں جن میں سے مثبت 865 اور منفی 2480 تھے، جس کا مطلب ہے کہ ٹیسٹ میں سے 26 فیصد نتائج مثبت آئے اور ہر چوتھے فرد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔سینئر عوامی صحت کے ماہرین کا کہنا تھا کہ حکومت کو سینئر افراد کا تقرر کرکے کورونا مینجمنٹ کو مستحکم کرنا چاہیے۔