حیدر آباد میں کورونا وائرس کے کیسز سنبھالنے میں ناکامی، ڈی سی کا تبادلہ
شائع شدہ تاریخ 08 اپریل, 2020
سندھ حکومت نے صوبے کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں انتطامی ناکامی کی وجہ سے کورونا وائرس کی وبا سامنے آنے کے بعد ڈپٹی کمشنر عائشہ ابڑو کا تبادلہ کردیا۔ صوبائی حکومت کی جانب سے عائشہ ابڑو کا محکمہ تعلیم میں تبادلہ کردیا گیا ہے۔ حیدر آباد میں ڈپٹی کمشنر کے عہدے پر تعینات ہونے والی وہ پہلی افسر تھیں تاہم وہ صورتحال کو مؤثر انداز میں سنبھال نہیں پارہی تھیں۔وہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز گروپ کی 18 گریڈ کی آفیسر ہیں، جنہوں نے حسین آباد کے رہائشی کی موت کے پس منظر میں لیاقت یونیورسٹی ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، 20 گریڈ کے افسر ڈاکٹر مظہر کلہوڑو آفیسر سے وضاحت طلب کی تھی۔تحریر جاری ہے حسین آباد کے رہائشی کی موت کی وجہ قبل ازیں کورونا وائرس بتائی گئی تھی، ڈپٹی کمشنر نے ایم ایس سے وضاحت طلب کی تھی کہ انہوں نے لاش کو کیوں چھوڑا۔یہاں تک کہ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کو جمعہ کے روز ویڈیو کانفرنس میں گمراہ کیا گیا جب انہیں بتایا گیا کہ جامشورو میں 19 کورونا وائرس کے مریض لاپتہ ہوگئے ہیں جہاں انہیں ٹیسٹ کے لیے بھیجا گیا تھا۔یہ حقیقت میں مختلف اسٹیک ہولڈرز کے مابین تیاری اور رابطہ کے فقدان تھا جس کی وجہ سے وزیراعلیٰ کی جانب سے اس طرح کا گمراہ کن بیان دیا گیا تھا۔ چند روز قبل تک انتظامیہ کے پاس کورونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کے مکمل اعداد و شمار نہیں تھے جن کے ٹیسٹ حیدرآباد اور کراچی میں کروائے گئے تھے۔انہیں مشتبہ مریضوں کے ساتھ مختلف سہولیات پر رکھا گیا تھا حالانکہ انہیں تنہائی کے وارڈ میں رکھا جانا تھا اور ان کو قرنطینہ مراکز میں مشتبہ مریضوں کے ساتھ نہیں ملایا جانا چاہیے تھا۔علاوہ ازیں عائشہ ابڑو کی پوسٹنگ پر سیاسی حمایت کا دعوٰی بھی کیا گیا تھا۔ ایک اور انتظامی خرابی کی نشاندہی بھی کی گئی جس پر انہوں نے حیدر آباد پولیس پر الزام عائد کیا کہ وہ 2 دن قبل لطیف آباد میں راشن سے بھری گاڑی لوٹ رہی تھی۔