جسٹس وقار سیٹھ کا ذہنی توازن درست نہیں، مس کنڈکٹ کیا، ان کے خلاف ریفرنس دائر کریں گے، حکومت
شائع شدہ تاریخ 20 دسمبر, 2019
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کومشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ بیرسٹر فروغ نسیم نے بتایا کہ آرٹیکل چھ کے تحت پرویز مشرف کا ٹرائل کرنے والی خصوصی عدالت نے جو تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے۔ اس میں پیرا 66 میں خصوصی عدالت کے جج وقار احمد سیٹھ نے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکم دیا کہ وہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو گرفتار کرکے پاکستان لائیں اورقانون کے مطابق سزا دیں اگر ان کی موت واقع ہو جائے اور ایسا نہ ہو سکے تو ان کی نعش کو تین روز تک ڈی چوک میں لٹکایا جائے، یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک جج کس طرح فیصلے میں ایسا لکھ سکتے ہیں جو قانون اور آئین اجازت نہیں دیتا۔ سپریم کورٹ کے 1994کے جسٹس نسیم حسین شاہ نے بھی آرٹیکل 14کا حوالہ دیتے ہوئے ایک فیصلہ دیا کہ بیچ چوراہے لٹکانا (پھانسی) دینا آئین اور اسلام کے خلاف ہے ،کسی بھی قانون میں ایسی گنجائش نہیں ہے کہ کسی مجرم کو بیچ چوراہے میں لٹکایا جائے‘ اس طرح کی آبزرویشن سے عدالتی وقار مجروح ہوتا ہےاورجج کی ذہنی حالت پر سوال اٹھتے ہیں‘ آرٹیکل 209 کے تحت جج کے خلاف ریفرنس دائر کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ حکومت ،افواج پاکستان عوام کی طاقت سے ہر سازش کو ملیا میٹ کر دے گی۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں، ہم حیران ہیں۔ پیرا 66 میں قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان کے قانون، شرعی اور عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا کر دکھ دیں۔ پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی۔ہمارا سرشرم سے جھک گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ فیصلے کے پیچھے تمام محرکات کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ریفرنس کے علاوہ وفاقی حکومت اپیل میں بھی جائے گی۔ پیرا 66 ہمارے لیے شرمساری کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مقدمے میں شفاف ٹرائل آئینی تقاضا ہے، پرویز مشرف کے ٹرائل کو عجلت میں نمٹایا گیا اور قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے، کیا ایسے اقدامات اٹھانے چاہئیں جس سے قومی اداروں میں ٹکراؤ کا احتمال ہو۔