ایم کیو ایم کو منانے کیلئے حکومتی وفد کی بہادرآباد آمد، مذاکرات جاری
شائع شدہ تاریخ 13 جنوری, 2020
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو منانے کے لیے وفاقی حکومت کا وفد اسد عمر کی سربراہی میں بہادرآباد پہنچ گیا ہے جہاں دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان ملاقات جاری ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے مطالبات پورے نہ کیے جانے پر متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے گزشتہ روز وفاقی کابینہ سے علیحدہ ہونے کا اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی آئی ٹی کی وزارت بھی چھوڑ دی تھی۔آج حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کا وفد اسد عمر کی سربراہی میں ایم کیو ایم پاکستان کے دفتر بہادرآباد پہنچا جہاں ان کے ہمراہ فردوس شمیم، حلیم عادل شیخ، خرم شیر زمان، رکن قومی اسمبلی آفتاب ملک اور دیگر اراکین اسمبلی بھی موجود تھے۔حکومتی وفد کے اراکین نے بہادرآباد پہنچنے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی کوشش ہو گی کہ خالد مقبول صدیقی کو استعفیٰ واپس لینے کے لیے قائل کر سکیں تاکہ وہ وفاقی وزیر کی حیثیت سے کام کرنا شروع کردیں۔ روایت کے برعکس جب تحریک انصاف کا وفد بہادرآباد پہنچا تو ایم کیو ایم کی جانب سے ان کا استقبال نہیں کیا گیا جس کے بعد اندر جا کر دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے۔ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے قریبی ذرائع کے مطابق خالد مقبول صدیقی اپنا استعفیٰ واپس لینے پر تیار نہیں ہیں تاہم انہوں نے یقین دہانی کرائی کے وزارت چھوڑنے کے باوجود ایم کیو ایم پاکستان حکومت کی سپورٹ جاری رکھتے ہوئے ان کے اقدامات کی حمایت کرے گی۔حکومتی اراکین کے اصرار کے باوجود خالد مقبول صدیقی استعفیٰ واپس نہ لینے کے موقف پر قائم ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ رابطہ کمیٹی نے متفقہ فیصلہ کیا تھا کہ ایم کیو ایم کے کنوینر اب وفاقی وزیر برائے آئی ٹی کے عہدے پر کام نہیں کریں گے۔ ایم کیو ایم کی جانب سے مذاکرات میں فیصل سبزواری، خواجہ اظہار الحسن سمیت دیگر اہم رہنما شریک ہیں لیکن حکومتی مذاکراتی ٹیم اب تک ایم کیو ایم کو منانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ایم کیو ایم کی جانب سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان سے بار بار وعدے کیے گئے لیکن ان وعدوں کے برعکس اب تک کسی بھی قسم کے اقدامات نہیں کیے گئےگزشتہ روز خالد مقبول صدیقی نے اپنی وزارت سے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا تھا کہ میرے وزارت میں بیٹھنے سے کراچی کے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہورہا۔انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان میں جمہوریت کے استحکام، میرٹ کے قیام، انصاف اور سندھ کے شہری علاقوں کو ان کے حقوق دلانے کے لیے 2 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے تھے لیکن سب باتیں کاغذوں تک محدود رہیں۔ خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ 'میرے لیے ایسی صورت حال میں وزارت میں بیٹھنا مشکل ہوجاتا ہے کہ حکومت میں بیٹھے رہیں اور سندھ کے شہری علاقوں کے عوام انہی مشکلات کا سامنا کرتے رہیں جن کا وہ ہمارے حکومت میں آنے سے قبل سامنا کر رہے تھے'۔ایم کیو ایم کی جانب سے ایک عرصے سے حکومت کی جانب سے وعدے پورے نہ کرنے اور کراچی اور حیدرآباد کو نظرانداز کرنے کا شکوہ کیا جاتا رہا ہے۔دوسری جانب گزشتہ روز ایم کیو ایم پاکستان کے تحفظات پر وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا تھا کہ ایم کیو ایم ہماری اہم اتحادی جماعت ہے، ان شاءاللہ اتحادی ہی رہے گی اور ان سے ملاقات کر کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کریں گے۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ‘وزیراعظم عمران خان کراچی کی روشنیاں بحال کرنے کے لیے پرعزم ہیں، کراچی کی ترقی، شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ و فروغ اور وسائل کی فراہمی پر سب کا اتفاق ہے’۔کراچی کے مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘کراچی ہماری معاشی شہ رگ ہے اور وسائل پر یہاں کے باسیوں کا حق ہے، معاشی استحکام کی جانب بڑھ رہے ہیں، کراچی بھی اس سے مستفید ہوگا’۔