اپریل میں بجلی صارفین پر 14.37 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیا گیا
شائع شدہ تاریخ 01 اپریل, 2026
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب نیشنل گرڈ کی پرچیزنگ ایجنسی نے اعتراف کیا کہ فروری کے دوران گھروں اور فیکٹریوں سے ایندھن کی اصل قیمت کے مقابلے میں تقریباً 25 فیصد کم چارج کیا گیا تھا، اب ریگولیٹر (نیپرا) اس فرق کو ختم کرنے کے لیے کارروائی کر رہا ہے۔
سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو بتایا کہ فروری کے بلوں کا حساب 6.73 روپے فی یونٹ کی حوالہ جاتی ایندھن کی قیمت کے خلاف لگایا گیا تھا۔
پیداوار کے اصل اخراجات 8.37 روپے فی یونٹ رہے جوکہ 1.64 روپے فی یونٹ کا فرق (شارٹ فال) ہے، جسے اس مہینے فروخت ہونے والے 7.43 ارب یونٹس سے ضرب دینے پر 12.18ارب روپے کا بنیادی ایڈجسٹمنٹ بل بنتا ہے۔
جنرل سیلز ٹیکس لاگو ہونے کے ساتھ کل بوجھ 14.37ارب روپے تک پہنچ جاتا ہے۔