امریکی اخبار: اسرائیل کا ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق نیا دعویٰ

شائع شدہ تاریخ 21 جولائی, 2026
امریکی-اخبار-اسرائیل-کا-ایران-کے-جوہری-پروگرام-سے-متعلق-نیا-دعویٰ

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس کا اندازہ ہے کہ ایران نے گزشتہ موسمِ خزاں کے دوران ہزاروں یورینیم افزودگی کے سینٹری فیوجز پِک ایکس ماؤنٹین کے اندر واقع سرنگوں میں منتقل کر دیے تھے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے یہ انٹیلی جنس معلومات امریکا کے ساتھ بھی شیئر کیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یورینیم افزودگی کے سینٹری فیوجز پِک ایکس ماؤنٹین میں منتقل کرنے کے باعث فضائی حملوں کے ذریعے انہیں نشانہ بنانا مزید مشکل ہو گیا ہے۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ منتقلی جون 2025ء میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے دوران امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں کے بعد خزاں کے موسم میں عمل میں آئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سینٹری فیوجز کو پِک ایکس ماؤنٹین منتقل کیے جانے کا مطلب لازمی طور پر یہ نہیں کہ ایران وہاں یورینیم افزودگی کی نئی تنصیب قائم کر رہا ہے، بلکہ امکان ہے کہ تہران نے حملوں میں محفوظ رہنے والے آلات کو مستقبل کے ممکنہ حملوں سے بچانے کے لیے زیرِ زمین محفوظ مقام پر منتقل کیا ہو۔

واضح رہے کہ یہ اقدام جون 2025ء میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے بعد کیا گیا، اس دوران امریکا نے ایران کی زیرِ زمین جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے بی-52 بمبار طیارے استعمال کیے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ پِک ایکس ایک ممکنہ ہدف ہے، جہاں مرکزی داخلی راستے کے قریب ایک بڑا اور طاقتور حملہ کیا جا سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا تھا کہ ہمیں وہاں کسی قسم کی سرگرمی نظر نہیں آ رہی۔ وہ اپنے جوہری پروگرام کی صورتحال میں بہتر کارکردگی نہیں دکھا رہے، قوی امکان ہے کہ ہم نسبتاً جلد پِک ایکس کو نشانہ بنائیں گے۔

اس ماہ کے آغاز میں سی این این نے رپورٹ کیا تھا کہ سیٹلائٹ تصاویر میں پِک ایکس ماؤنٹین کی تنصیب پر ٹرکوں کی آمدورفت دیکھی گئی، جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ایران ممکنہ طور پر اپنی جوہری تنصیبات کی بحالی پر کام کر رہا ہے۔