امریکا نے ایران سے معاہدے کیلئے نئی شرط عائد کر دی
شائع شدہ تاریخ 11 جولائی, 2026
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے کہا ہے کہ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام پر پابندیاں قبول کرتا ہے اور بین الاقوامی نگرانی کے نظام سے تعاون کرتا ہے تو واشنگٹن پابندیوں میں نرمی، اقتصادی اقدامات اور دیگر شعبوں میں پیش رفت پر غور کر سکتا ہے۔
تاہم امریکا کا کہنا ہے کہ نئی نیوکلیئر ڈیل کے بغیر کسی بڑے معاہدے کا امکان نہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اپنے مذاکراتی نمائندوں کو ہدایت دی ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھی جائے لیکن بنیادی شرط یہی رہے گی کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں ایسا معاہدہ کرے جو امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔
دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو اس کے قانونی حقوق یا خودمختاری کو متاثر کرے۔
تہران کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ کسی بھی نئے معاہدے کے ساتھ اقتصادی پابندیوں میں مؤثر نرمی اور ضمانتیں فراہم کی جائیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ دونوں ممالک سفارتی رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں، لیکن یورینیم افزودگی، بین الاقوامی معائنوں، پابندیوں کے خاتمے اور سیکیورٹی ضمانتوں جیسے اہم معاملات پر اختلافات بدستور موجود ہیں، جس کی وجہ سے کسی نئی نیوکلیئر ڈیل تک پہنچنا آسان نہیں ہوگا۔