آڈٹ رپورٹ میں وفاقی حکومت کے 82 کھرب قرض کا انکشاف
شائع شدہ تاریخ 07 جولائی, 2026
اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری تازہ قرضہ بلیٹن کے مطابق قرضوں میں 7۔8 فیصد اضافہ ہوا، جو اوسط مہنگائی کی شرح 7 فیصدسے بھی زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کامجموعی قرض،جس میں واجبات اور آئی ایم ایف کاقرض شامل نہیں، جون تامئی مالی سال 2025-26 کے دوران مسلسل بڑھتا رہا۔ صورتحال سے ظاہر ہوتاہے کہ حکومت کی مالی ضروریات اب بھی آمدنی سے زیادہ ہیں اور قرضوں کے انتظام میں بہتری کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے آڈٹ رپورٹ میں وزارتِ خزانہ پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ قرضوں کی اصل رقم کی ادائیگی کیلیے 1۔83 کھرب روپے کی غیر حقیقی بجٹ سازی کی گئی،جس کے نتیجے میں غیر ضروری اضافی اخراجات سامنے آئے۔
آڈٹ رپورٹ میں وزارتِ خزانہ کے اندر نگرانی اورکنٹرول کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی سفارش کی گئی،تاکہ قرضوں کی ادائیگی کیلیے درکار حقیقی مالی ضرورت کادرست اندازہ لگایاجاسکے۔
آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیاگیاکہ حکومت مالیاتی رپورٹنگ مینول کے مطابق ماہانہ Debt and Losses Report بھی تیار نہیں کررہی،حالانکہ یہ رپورٹ ہر ماہ قومی قرضوں کی مجموعی صورتحال کاجائزہ پیش کرنے کیلیے ضروری ہے۔
ادھر وزارتِ خزانہ کا ڈیٹ مینجمنٹ آفس گزشتہ چھ ماہ سے مستقل سربراہ سے محروم ہے۔ ڈائریکٹر جنرل کی آسامی جنوری سے خالی ہے اور ادارہ عبوری انتظام کے تحت چلایاجارہاہے،جس پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ بھی تشویش کااظہارکر چکی ہے۔
اعدادوشمارکے مطابق بیرونی قرض ایک سال میں 22۔5 کھرب روپے سے بڑھ کر 23۔8 کھرب روپے ہوگیا،جبکہ روپے کی قدر میں استحکام کے باعث بیرونی قرض میں اضافہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نسبتاً کم رہا، تاہم قلیل مدتی بیرونی قرض 201 ارب روپے سے بڑھ کر 2۔7کھرب روپے تک پہنچ گیا،جسے مرکزی بینک نے قرضوں کی درجہ بندی میں تبدیلی کانتیجہ قرار دیاہے۔
رپورٹ کے مطابق ملکی (داخلی) قرض بھی بڑھ کر 58۔1کھرب روپے ہوگیا،جس میں ایک سال کے دوران 4۔7 کھرب روپے کااضافہ ہوا۔ قلیل مدتی داخلی قرض 8۔1 کھرب روپے سے بڑھ کر 10۔7 کھرب روپے تک جاپہنچا،جبکہ طویل مدتی داخلی قرض بھی 47۔3 کھرب روپے تک پہنچ گیا۔
قرضوں میں مسلسل اضافے کے باعث حکومت پر سود کی ادائیگیوں کابوجھ بھی بڑھ گیا اوررواں مالی سال کے دوران سودکی مدمیں اخراجات 8 کھرب روپے سے تجاوزکرنے کاامکان ہے۔