برطانیہ میں نئے امیگریشن قوانین نافذ – رہائشیوں کے لیے بڑی تبدیلی

شائع شدہ تاریخ 04 اکتوبر, 2025
New immigration laws come into effect in the UK – a big change for residents

اس حوالے سے برطانیہ کی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے لیبر پارٹی کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مستقل رہائش کے لیے سخت شرائط متعارف کرانے کا اعلان کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ تارکین وطن کے لیے مستقل رہائش کے قواعد وضوابط کو سخت کیا جارہا ہے تاکہ درخواست گزاروں کو یہاں رہائش کے لیے یہ ثابت کرنا ہو کہ وہ معاشرے کے لیے ایک مفید فرد ہیں۔

permanent residency

برطانوی ہوم سیکریٹری نے کہا کہ فی الحال تارکینِ وطن 5 سال کی مدت مکمل کرنے کے بعد مستقل رہائش کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، تاہم لیبر پارٹی نے اس مدت کو بڑھا کر 10 سال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

جس کے بعد انہیں برطانیہ میں غیر معینہ مدت تک رہنے، تعلیم حاصل کرنے اور ملازمت کرنے کا حق حاصل ہوگا۔

اس کے علاوہ امیدواروں کو اعلیٰ معیار کی انگریزی سیکھنا ہوگی، جرائم سے پاک ریکارڈ رکھنا ہوگا اور کمیونٹی میں رضاکارانہ خدمات انجام دینی ہوں گی تاکہ مستقل سکونت کا درجہ حاصل کیا جاسکے۔

 

شبانہ محمود نے مزید کہا کہ فی الحال تارکینِ وطن 5 سال مکمل کرنے کے بعد مستقل رہائش کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، جس کے بعد انہیں برطانیہ میں غیر معینہ مدت تک رہنے، تعلیم حاصل کرنے اور کام کرنے کا حق حاصل ہو جاتا ہے۔

ہوم سیکریٹری کے مطابق حکومت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ اہلیت صرف ان افراد کو دی جائے جو اپنی کمیونٹی میں رضاکارانہ خدمات کا ریکارڈ رکھتے ہوں۔ ان تجاویز پر با ضابطہ مشاورت رواں سال کے آخر میں شروع کی جائے گی۔

 new rules

شبانہ محمود نے بتایا کہ مائیگریشن آبزرویٹری کے اندازے کے مطابق برطانیہ میں اس وقت تقریباً 45 لاکھ افراد مستقل رہائش رکھتے ہیں، جن میں لگ بھگ 4 لاکھ 30 ہزار غیر یورپی شہری شامل ہیں۔