حماس کا بڑا اعلان: ہتھیار نہیں ڈالیں گے
شائع شدہ تاریخ 03 اکتوبر, 2025
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق حماس کے سینئر رہنما محمد نزال کا کہنا تھا کہ اسرائیلی مطالبہ ہے کہ حماس فلسطینی ریاست کے قیام سے پہلے غیر مسلح ہو جائے لیکن یہ ہمیں کسی صورت قبول نہیں۔
رپورٹس کے مطابق اُن کا کہنا تھا کہ دنیا کی کسی بھی مزاحمتی تحریک نے آزادی سے قبل اپنے ہتھیار نہیں ڈالے۔ جنوبی افریقہ، افغانستان، ویتنام، الجزائر اور آئرلینڈ میں کبھی بھی مزاحمتی تحریکوں سے غیر مسلح ہونے کا مطالبہ آزادی سے پہلے نہیں کیا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم اپنے ہتھیار صرف اسی صورت میں چھوڑے گی جب ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست قائم ہوگی۔
حماس کے سیاسی بیورو کے رکن محمد نزال کا کہنا تھا کہ تنظیم امریکی صدر کے منصوبے پر غور کر رہی ہے اور جلد ہی اپنے مؤقف کا باضابطہ اعلان کردے گی، تاکہ جلد اس جنگ کا خاتمہ ہوسکے۔
حماس بطور فلسطینی مزاحمتی قوت فلسطینی عوام کے مفاد میں فیصلہ کرنے کا حق رکھتی ہے۔
دوسری جانب مصر نے کہا ہے کہ حماس کو امریکی غزہ پلان پر قائل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
مصری وزیرخارجہ کے مطابق مصر، قطر اور ترکیہ مل کر حماس کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں امید ہے حماس کو مثبت جواب دینے پر قائل کر لیں۔
ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امید ہے حماس غزہ سے متعلق ٹرمپ کے منصوبے کی منظوری دے گی۔
امریکی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کیرولین لیویٹ نے کہا کہ غزہ جنگ بندی کا منصوبہ قابل قبول ہے توقع کرتے ہیں حماس بھی ٹرمپ کے منصوبے کو قبول کرے گی۔
ترجمان نے کہا کہ حماس منصوبہ قبول کرے تاکہ زیادہ پرُامن مشرق وسطیٰ کی جانب آگے بڑھ سکیں۔
قطر کا فلوٹیلا ارکان کی فوری رہائی اور اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ
حماس عہدیداران کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ غزہ امن منصوبے کی غیر مسلح ہونے کی شق میں ترمیم چاہتی ہے۔