لبلبے کے کینسر کی نئی دوا، علاج میں بڑی پیشرفت
شائع شدہ تاریخ 15 اپریل, 2026
تحقیق میں معلوم ہوا کہ لبلبے کے کینسر کے مریض (جن کی موت سے بچ جانے کی شرح دیگر کینسرز کے مقابلے میں سب سے کم سمجھی جاتی ہے) اگر روزانہ ایک بار لی جانے والی دوا ڈریکسونراسب استعمال کریں تو اُن میں موت کا خطرہ صرف کیموتھراپی کروانے والوں کے مقابلے میں 60 فیصد تک کم ہو سکتی ہے ۔
ہ نتائج 500 افراد پر مشتمل فیز تھری ٹرائل میں سامنے آئے، جو اس دوا کو ایک زیادہ مؤثر اور کم تکلیف دہ علاج بنا سکتے ہیں۔
اس متعلق ہارورڈ میڈیکل اسکول کے پروفیسر برائن وولپن کا کہنا تھا کہ یہ دوا اُن مریضوں کے لیے بھی امید کی نئی کرن ثابت ہو سکتی ہے جن میں کیموتھراپی کے باوجود کینسر پھیلتا رہتا ہے۔