بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر بڑا تنازع، 29 امریکی ریاستیں میٹا کے خلاف عدالت پہنچ گئیں
شائع شدہ تاریخ 18 اگست, 2026
میٹا کے خلاف اس مقدمے کی سماعت 18 اگست سے شروع ہو رہی ہے اور امریکی ریاستوں کی جانب سے فیس بک اور انسٹا گرام کی سرپرست کمپنی پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے ایپس کو ایسے ڈیزائن کیا ہے جو نوجوانوں میں لت کا باعث بننے کے ساتھ انہیں نقصان پہنچاتا ہے۔
امریکی ریاست کیلیفورنیا کی وفاقی عدالت میں مقدمے کی سماعت 6 سے 8 ہفتوں تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
عدالتی جیوری کی جانب سے میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ، انسٹا گرام کے چیف ایگزیکٹو ایڈم موسیری اور کمپنی کے سابق ملازم اور اب اس کے بارے میں انکشافات کرنے والے Arturo Béjar کو بھی سنا جائے گا۔
29 ریاستوں کی جانب سے دائر مقدمے میں کیلیفورنیا، کولوراڈو، نیو جرسی اور کینٹکی کے اٹارنی جنرلز وکیلوں کی ٹیم کی قیادت کریں گے۔
ان ریاستوں کی جانب سے اکتوبر 2023 میں مقدمہ دائر کیا گیا تھا جس کے لیے 233 صفحات پر مبنی دستاویزات عدالت میں کرائی گئی تھیں اور میٹا پر الزام عائد کیا گیا کہ یہ کمپنی 13 سال سے کم عمر بچوں کا ڈیٹا والدین کی اجازت کے بغیر اکٹھا کرتی ہے جو وفاقی اور ریاستی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
مقدمے میں کہا گیا کہ میٹا کی جانب سے نقصان دہ فیچرز کے استعمال کو روکنے سے انکار کیا اور اس کا مقصد منافع حاصل کرنا ہے۔
یہ مقدمہ سوشل میڈیا کمپنی کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ ریاستوں کی جانب سے 200 ارب ڈالرز جرمانہ عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے جو کہ کمپنی کی 2025 کی سالانہ آمدنی کے برابر ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ مقدمے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ میٹا کو اپنی ایپس کے ڈیزائن کو بھی تبدیل کرنا چاہیے تاکہ انہیں بچوں کے لیے محفوظ بنایا جاسکے۔
دوسری جانب میٹا نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حقائق یا قانون کی بجائے ریاستوں کی جانب سے یہ مقدمہ اربوں ڈالرز حاصل کرنے کے لیے دائر کیا گیا ہے۔
کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ ریاستوں کے لیے یہ ایک اہم مقدمہ ہے مگر ان کے الزامات بے بنیاد ہیں اور مالی مطالبات نامناسب ہیں۔
بیان کے مطابق وکیلوں کے پاس شواہد موجود نہیں۔
ریاستی وکلا کے مطابق میٹا کی جانب سے ایسے فیچرز تیار کیے گئے ہیں جن کا مقصد لوگوں کو زیادہ سے زیادہ وقت ایپس پر گزارنے پر مجبور کرنا ہے اور نوجوان اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
اس مقدمے کی سماعت اس وقت شروع ہو رہی ہے جب گزشتہ دنوں نیو میکسیکو کی ایک عدالت کی جانب سے اس سے ملتے جلتے مقدمے میں 56 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز کا جرمانہ عائد کیا گیا۔
اسی طرح ریاست Tennessee میں بھی ایک مقدمہ زیرسماعت ہے۔