اسمارٹ فون کی لت ختم کرنا ممکن؟ ماہرین نے آسان حل بتا دیا

شائع شدہ تاریخ 30 مارچ, 2026
اسمارٹ-فون-کی-لت-ختم-کرنا-ممکن؟-ماہرین-نے-آسان-حل-بتا-دیا

ہر وقت آنے والی نوٹیفکیشنز، سوشل میڈیا کی کشش اور مسلسل اسکرین کا استعمال انسان کو ایک ایسی عادت میں مبتلا کر رہا ہے جس سے نکلنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر اس بڑھتی ہوئی اسمارٹ فون کی لت کو بروقت قابو نہ کیا جائے تو یہ نہ صرف ہماری پیداواری صلاحیت کو متاثر کرتی ہے بلکہ ذاتی تعلقات اور ذہنی صحت کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ اسی تناظر میں حالیہ تحقیق نے ذہنی یکسوئی کو ایک مؤثر حل کے طور پر پیش کیا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر کی گئی ایک بڑی تحقیق، جس میں 11 ممالک کے تقریباً 38 ہزار 800 افراد شامل تھے، سے معلوم ہوا ہے کہ جو لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں ذہنی یکسوئی کو اپناتے ہیں۔

ان میں اسمارٹ فون کے غیر ضروری استعمال کی شرح کم ہوتی ہے۔ ایسے افراد نہ صرف بہتر نیند لیتے ہیں بلکہ کام پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور ان کے سماجی تعلقات بھی زیادہ متوازن ہوتے ہیں۔

تحقیق کی سربراہ سوسن ہولٹزمین کے مطابق بے قابو موبائل استعمال کو اسمارٹ فون کا استعمال کا مسئلہ کہا جاتا ہے، جو ذہنی دباؤ، نیند کی خرابی اور توجہ میں کمی جیسے مسائل سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے مطابق ذہنی یکسوئی اس عادت کو کنٹرول کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

دنیا بھر میں تقریباً 4.9 ارب افراد اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں، اور بار بار فون چیک کرنا نہ صرف وقت کا ضیاع بنتا ہے بلکہ بے چینی کو بھی بڑھاتا ہے۔ ماہرین اس کیفیت کو نومو فوبیا کا نام دیتے ہیں، جس میں انسان فون سے دور ہونے پر اضطراب محسوس کرتا ہے۔

مزید برآں تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ صرف چند منٹ کی سانس پر توجہ یا ذہنی یکسوئی کی مشق دماغ کو نئی عادات سکھانے میں مدد دیتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص فون استعمال کرنے سے پہلے ایک لمحہ رک کر خود سے سوال کرے کہ آیا یہ واقعی ضرورت ہے یا صرف عادت، تو وہ آہستہ آہستہ اس لت پر قابو پا سکتا ہے۔

ماہرین تجویز دیتے ہیں کہ بوریت یا خالی وقت میں فوراً فون اٹھانے کے بجائے متبادل سرگرمیاں اپنائی جائیں، جیسے چہل قدمی، گہری سانسیں لینا یا کسی سے گفتگو کرنا۔ اس طرح دماغ نئی مثبت عادات سیکھتا ہے اور اسکرین پر انحصار کم ہوتا جاتا ہے۔