آیت نور کے مبینہ زیادتی اور قتل کیس پر جوڈیشل کمیشن کی سفارش
شائع شدہ تاریخ 08 ستمبر, 2026
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی نے ہری پور کی پانچ سالہ آیت نور کے مبینہ زیادتی اور قتل کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن بنانے کی سفارش کردی۔
کمیٹی کے اجلاس میں رکن قومی اسمبلی بابر نواز نے کیس کی تحقیقات میں پولیس کی مبینہ کوتاہیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ہری پور پولیس پر اعتماد نہیں، کیس کی ازسرنو تحقیقات نئی ٹیم سے کرائی جائیں۔
بابر نواز کے مطابق آیت نور کے والدین کو اپنی بیٹی کی گمشدگی کی ایف آئی آر درج کرانے کے لیے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں دو روز تک یہ ثابت کرنا پڑا کہ وہ میاں بیوی ہیں۔ والدین سے نکاح نامہ بھی طلب کیا گیا۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایک خاتون ڈی ایس پی نے آیت نور کی والدہ پر ہی بچی کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا، جبکہ والد سے مبینہ طور پر زبردستی دفعہ 164 کا بیان بھی لیا گیا۔
بابر نواز نے کہا کہ جب پورا شہر آیت نور کی بازیابی کے لیے سڑکوں پر نکلا تو پولیس نے معاملے کو سنجیدگی سے لیا۔ ان کے مطابق آیت نور کی لاش 15 روز بعد ملی، جو مبینہ طور پر سات روز پرانی تھی۔
رکن کمیٹی نے کیس میں تین بچوں کی گرفتاری پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ سمجھ سے باہر ہے کہ پولیس نے انہیں کیس میں کیسے نامزد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آیت نور کو گھر سے لے جانے والا 11 سالہ بچہ کسی موقع پر یہ نہیں کہتا کہ تین لڑکے تھے جن کے حوالے بچی کو کیا گیا۔