میر رضا کیس میں اہم پیش رفت، قبر کشائی رکوا دی گئی
شائع شدہ تاریخ 07 اگست, 2026
پولیس کی ٹیم پی ای سی ایچ ایس قبرستان پہنچ گئی تاہم میر رضا کے والد نے انتظامیہ کوبیٹے کی قبرکشائی سے روک دیا۔
میر رضا کے والد کا کہنا ہے کہ راتوں رات میڈیکل بورڈ تبدیل کردیا گیا، اس لیے ہم قبر کشائی نہیں ہونے دیں گے۔
میر رضا کے والد کے وکیل جبران ناصر ایڈووکیٹ کی قبرستان میں میڈیا سے گفتگو:
جبران ناصر ایڈووکیٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو صورتحال سامنے آئی وہ کافی سنجیدہ ہے، عدالت نے پولیس سرجن اور پولیس کوحکم دیا اس پر ایک میڈیکل ٹیم بنادی گئی،کراچی کے لوگ میڈیکل بورڈ میں ہونے چاہیے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ حیدرآباد کون ہیں؟ ان کا کیا اختیار ہے؟ رات میں میڈیکل بورڈ تبدیل کرنے کی وجہ کیا ہے؟ تفتیشی افسر نے 8 دن سے مدعی کا بیان نہیں لیا، ایک باپ کی جوان اولاد گئی ہے اس کے بیٹے کا قتل ہوا ہے۔
جبران ناصر نے کہا کہ 8 روزسے گولی کا خول نہیں مل رہا تھا ،کل مل گیا! قبرکشائی ہے ،مذاق نہیں، ہم کسی کو قبر کشائی نہیں کرنے دیں گے، میں صبح عدالت گیا، مجسٹریٹ کچھ دیر میں یہاں آرہے ہیں۔
دوسری جانب جیونیوز نے میر رضا علی کیس سے متعلق اہم تصاویر حاصل کرلیں۔
میررضا کی شرٹ پر گولی کا نشان اور شرٹ سےدھاگے باہر نکلے ہوئے ہیں،پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا تھا گولی سینے سے لگی اور کمر سے نکلی ،تصویر میں پاؤں پر زخم جیسے نشانات بھی ہیں۔
اس کے علاوہ سیدھی جانب پسلیوں پر تشدد جیسے نشانات بھی واضح ہیں۔
واضح رہے کہ پولیس سرجن سمعیہ سید نے ایس پی ایسٹ کو خط لکھ کر ڈاکٹر اسامہ شیخ کی بنائی ہوئی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی تھی۔
سمعیہ سید نے اپنے خط میں لکھا کہ لاش کے ایکسرے نہیں کیے گئے، انٹری زخم پر موجود بارود کے نشانات کا کیمیکل تجزیہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی فارنزک معیار کے مطابق تصاویر لی گئیں۔
انہوں نے لکھا کہ انٹری اور ایگزٹ زخموں کی ہڈیوں کے نشانات کے مطابق وضاحت موجود نہیں، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انٹری زخم کا سائز ایگزٹ زخم سے نمایاں بڑا درج ہے، انٹری اور ایگزٹ زخم کی دوبارہ جانچ اور تصدیق ضروری تھی۔