عالمی میڈیکل صنعت میں پاکستان کے لیے بڑا موقع
شائع شدہ تاریخ 07 اگست, 2026
معلوم ہوا ہے کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) اس حوالے سے متعدد ماہرین سے رابطے میں ہے، جنہوں نے حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ 2024 میں تقریباً 144.5 ارب ڈالرز مالیت کی عالمی میڈیکل ٹورازم انڈسٹری کے 2033 تک بڑھ کر 704.8؍ ارب ڈالرز تک پہنچنے کا امکان ہے۔
اس عرصے میں اس شعبے کی اوسط سالانہ شرح نمو 19 فیصد سے زائد رہنے کی توقع ہے، جس کے باعث یہ عالمی صحت کی معیشت کے تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں میں شامل ہو چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق، عالمی میڈیکل ٹور ازم کی تقریباً 60 فیصد طلب تین بڑے شعبوں پر مشتمل ہے، جن میں کاسمیٹک اور ایستھیٹک سرجری کا حصہ 25 تا 30 فیصد، دندان سازی کا تقریباً 10 فیصد جبکہ فرٹیلٹی اور بیریاٹرک سرجری کا مشترکہ حصہ 10 تا 15 فیصد ہے۔
ان میں ایستھیٹک میڈیسن اور سرجری کو سب سے بڑا اور تیزی سے ترقی کرنے والا شعبہ قرار دیا جاتا ہے، جس کی بنیادی وجوہات عالمی طلب میں اضافہ، سوشل میڈیا کا بڑھتا اثر، بوٹوکس، فلرز، پی آر پی (پلیٹ لیٹ رچ پلازما) اور لیزر جیسے کم تکلیف دہ طریقۂ علاج میں ترقی، نیز خواتین کے ساتھ مردوں میں بھی کاسمیٹک طریقۂ علاج کی بڑھتی ہوئی قبولیت ہے۔
ڈاکٹر سلمان، جو اس شعبے کے ماہر ہیں، نے ایس آئی ایف سی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایستھیٹک طریقۂ علاج عموماً اختیاری ہوتے ہیں اور ایک سے زیادہ مرتبہ کرائے جا سکتے ہیں، جس سے کلینکس کو بین الاقوامی مریضوں کے ساتھ طویل المدتی تعلقات قائم کرنے کا موقع ملتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہیئر ٹرانسپلانٹ اور باڈی کونٹورنگ کرانے والے مرد مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ 25 سے 45 سال کی عمر کے افراد اس شعبے کے سب سے بڑے صارفین ہیں۔
اسلام آباد میں مقیم پلاسٹک سرجن اور ہیئر ٹرانسپلانٹ کے ماہر ڈاکٹر سلمان نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ اس وقت ترکی ہر سال 10 لاکھ سے زائد میڈیکل کے شعبے کے سیاحوں (میڈیکل ٹوئر اسٹس) کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے، جن میں تقریباً 60 فیصد صرف ہیئر ٹرانسپلانٹ کی غرض سے وہاں جاتے ہیں۔ اس کے بعد رائنو پلاسٹی (ناک کی سرجری)، فیس لفٹ اور باڈی کونٹورنگ کے طریقۂ علاج، جن میں لائپو سکشن اور ٹمی ٹک شامل ہیں، سے اربوں ڈالر کی میڈیکل ٹوئر ازم آمدن حاصل ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس کئی ایسے مسابقتی فوائد موجود ہیں جن کی بدولت وہ اس تیزی سے بڑھتی عالمی مارکیٹ میں اپنا نمایاں حصہ حاصل کر سکتا ہے۔ پاکستان میں طبی علاج کے اخراجات مغربی ممالک کے مقابلے میں عموماً 60 سے 90 فیصد تک کم ہیں، جبکہ یہاں مستند سرجنز، جدید طبی سہولتیں اور بین الاقوامی معیار کے علاجی طریقۂ کار دستیاب ہیں۔
ماہرین نے یہ بھی نشاندہی کی کہ پاکستان ہر سال 25 ہزار سے زائد نئے ڈاکٹرز تیار کرتا ہے، جبکہ مختلف شعبوں میں 52 ہزار سے زیادہ طبی ماہرین خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد نے ایف سی پی ایس، ایم آر سی ایس اور ایف آر سی ایس جیسی بین الاقوامی اسناد حاصل کر رکھی ہیں یا پھر برطانیہ، امریکا اور خلیجی ممالک میں پیشہ ورانہ تربیت حاصل کی ہے۔
ان کے مطابق پاکستان اپنے جغرافیائی محل وقوع، ثقافتی ہم آہنگی، مشترکہ زبانوں اور مذہبی وابستگی کی وجہ سے افغانستان، وسطی ایشیائی ریاستوں، خلیجی ممالک اور برطانیہ و کینیڈا میں مقیم پاکستانیوں کو بھی علاج کیلئے اپنی جانب راغب کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتا ہے۔
صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی ایستھیٹک سرجنز بین الاقوامی کانفرنسوں، ماسٹر کلاسز اور مشترکہ تحقیقی منصوبوں میں مسلسل شرکت کر رہے ہیں، جس سے عالمی سطح پر پاکستان کی شناخت اور ساکھ بہتر ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہر سال اربوں ڈالر کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجتے ہیں، لیکن پاکستان اب تک میڈیکل ٹوئر ازم کے معاشی فوائد سے بھرپور استفادہ کرنے کیلئے کوئی جامع حکمت عملی وضع نہیں کر سکا۔
ماہرین کے مطابق اگر حکومت معاون پالیسیوں، بین الاقوامی معیار کی منظوری، مربوط تشہیری حکمت عملی اور عالمی معیار کے طبی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کو یقینی بنائے تو پاکستان میڈیکل ٹوئر ازم کو زرمبادلہ، روزگار اور معاشی ترقی کا ایک اہم ذریعہ بنانے کے ساتھ خود کو خطے کے ایک نمایاں ہیلتھ کیئر مرکز کے طور پر بھی منوا سکتا ہے۔