اوپن اے آئی کے سربراہ کا اے آئی سے متعلق بڑا اعتراف
شائع شدہ تاریخ 25 اگست, 2026
درحقیقت انہوں نے تسلیم کیا کہ اے آئی ٹیکنالوجی کو اپنانے کی رفتار توقعات سے زیادہ سست ہے۔
ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ اے آئی کو معیشت کا دل بنانے میں ابتدائی اندازوں سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے، درحقیقت اسے سرچ انجنز اور اسمارٹ فونز کے مقابلے میں عوامی سطح پر اپنانے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اگرچہ اے آئی ٹولز اب بہت زیادہ بہتر ہوچکے ہیں مگر لوگ اور کاروباری ادارے اب بھی جانی پہچانی پراڈکٹس اور عادات کو ترجیح دیتے ہیں۔
سام آلٹمین نے کہا کہ لوگوں کے رویوں میں تبدیلی کسی نئی ٹیکنالوجی کو تیار کرنے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوتی ہے اور کاروباری سرگرمیوں کو اے آئی پر منتقل کرنے کا عمل زیادہ سست رفتاری سے مکمل ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ 2023 میں جی پی ٹی 4 کو متعارف کرانے کے بعد انہیں توقع تھی کہ یہ بہت تیز رفتاری سے لوگوں میں عام ہوگا مگر اس کے برعکس اے آئی کی تمام تر قابلیت اور لوگوں کی جانب سے اسے استعمال کرنے کے درمیان خلا کافی زیادہ ہے۔
ان کے مطابق ان کے اپنے ماحول میں لوگوں کی جانب سے تفصیلات کو خود کاپی پیسٹ کیا جاتا ہے حالانکہ انہیں بہت زیادہ باصلاحیت اے آئی ٹولز تک رسائی حاصل ہے۔
اوپن اے آئی کے سربراہ نے اعتراف کیا کہ اے آئی انڈسٹری کی توقعات حقیقت سے زیادہ تھیں جبکہ اس ٹیکنالوجی کی بدولت بڑے پیمانے پر ملازمتوں سے محرومی، انسانیت کو لاحق خطرات اور دیگر عوامل کے باعث لوگوں میں اس کے حوالے سے تحفظات بڑھے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اے آئی ٹیکنالوجی میں پیشرفت کے باوجود انسانی ورکرز کی اہمیت ختم نہیں ہوگی۔
سام آلٹمین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی بتدریج متعدد کاموں میں لوگوں کو پیچھے چھوڑ دے گی مگر حقیقی انسانی تعلق کی اہمیت کبھی ختم نہیں ہوگی۔