ہرات میں طالبان نے عوامی پابندیاں مزید سخت کر دیں
شائع شدہ تاریخ 15 جولائی, 2026
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی ہدایات کے بعد طالبان نے اپنے سخت قوانین پر عمل درآمد مزید تیز کر دیا ہے۔
اخبار کا کہنا ہے کہ ہرات میں خواتین کو لباس اور مردوں کو داڑھی کے معاملے پر گرفتار کیا جا رہا ہے اور خوف کے باعث بہت سی خواتین نے گھروں سے باہر نکلنا کم کر دیا ہے۔
صرف 2 روز میں کم از کم 30 خواتین کو لباس کے قوانین کی مبینہ خلاف ورزی پر گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ مقامی انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہرات میں گرفتار خواتین کی تعداد 200 سے زیادہ ہو چکی ہے۔
طالبان حکومت کی سخت گیر پالیسیوں کا اثر لڑکیوں کی تعلیم پر بھی پڑ رہا ہے اور طالبان کے خوف سے والدین نے بیٹیوں کو اسکول بھیجنا بند کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عاشورہ کے موقع پر طالبان نے شیعہ برادری کی مذہبی رسومات اور جلوسوں پر پابندیاں عائد کیں، رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ افغانستان کی شیعہ برادری اب بھی حکومتی نمائندگی سے محروم ہے۔