آئی ایم ایف کا پاکستان سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں فوری بڑھانے کا مطالبہ
شائع شدہ تاریخ 06 مارچ, 2026
پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان ہونے والے ورچوئل مذاکرات میں آئی ایم ایف نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فوری اضافے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے حکومت پر زور دیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر کسی قسم کی سبسڈی نہ دی جائے اور قیمتوں میں اضافے کا بوجھ فوری طور پر عوام پر منتقل کیا جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف نے تجویز دی ہے کہ پٹرول اور ڈیزل پر پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے اہداف کو برقرار رکھا جائے۔ واضح رہے کہ 30 جون تک 1468 ارب روپے کی لیوی جمع کرنے کا ہدف مقرر ہے، جس میں سے جولائی تا دسمبر کے 6 ماہ میں 822 ارب روپے (60 فیصد سے زائد) جمع کیے جا چکے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کنٹرول کرنے کے لیے توانائی بچت کی مختلف تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ منصوبے کے مطابق پہلے مرحلے میں اسکولوں اور کالجوں کو آن لائن کلاسز پر منتقل کرنے کی تجویز ہے۔
دوسرے مرحلے میں یونیورسٹیوں اور سرکاری دفاتر کو ‘سمارٹ ورکنگ’ (گھر سے کام) پر منتقل کیا جائے گا۔دکانوں اور مارکیٹوں کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ گروسری اور ریسٹورنٹس کے لیے صرف ڈلیوری سروس اختیار کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ان سفارشات پر عملدرآمد کے لیے ایک جامع پلان بھی تیار کیا جائے گا۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر اس وقت تسلی بخش سطح پر ہیں، تاہم تیزی سے بدلتی صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کو جلد ہی مختلف سپلائی روٹس اور قیمتوں کے حوالے سے بریفنگ دی جائے گی۔ مزید برآں، پٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی اور غیر قانونی منتقلی روکنے کے لیے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر سخت کارروائیوں کی تجویز بھی دی گئی ہے۔