سائنس دانوں نے پلاسٹک ری سائیکلنگ کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا
شائع شدہ تاریخ 04 اگست, 2026
ایک رپورٹ کے مطابق سائنس دانوں نے پلاسٹک کے کچرے کو صاف توانائی میں تبدیل کرنے کی سمت ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے ایسا نیا کیمیائی طریقہ کار تیار کیا ہے۔
جس کے ذریعے مختلف اقسام کے پلاسٹک کو براہِ راست اعلیٰ معیار کی ہائیڈروجن گیس میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جبکہ کاربن کو فضا میں خارج ہونے کے بجائے محفوظ بھی رکھا جا سکتا ہے۔
مذکورہ تحقیق جنوبی کوریا کی ایوا ویمنز یونیورسٹی اور یو سی ایل اے سیموئیلی اسکول آف انجینئرنگ کیلیفورنیا کے سائنس دانوں نے مشترکہ طور پر انجام دی۔
ماہرین کے مطابق جدید دور میں پانی کی بوتلوں، شاپنگ بیگز سمیت روزمرہ استعمال کی بے شمار اشیا پلاسٹک سے تیار کی جاتی ہیں، تاہم استعمال کے بعد یہی پلاسٹک ماحول کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن جاتا ہے کیونکہ مختلف اقسام کے پلاسٹک کو الگ الگ ری سائیکل کرنا مہنگا اور پیچیدہ عمل ہے۔
پلاسٹک ری سائیکلنگ کی نئی ٹیکنالوجی کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں عام طور پر استعمال ہونے والی تین بڑی اقسام کے پلاسٹک پی ای ٹی (پولی ایتھلین ٹیرفتھیلیٹ)، پی ای (پولی ایتھلین) اور پی پی (پولی پروپلین) کو الگ کیے بغیر ایک ہی ری ایکٹر میں پروسیس کیا جاسکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق پلاسٹک ری سائیکلنگ کے عمل میں سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ استعمال کیا جاتا ہے جو پلاسٹک میں موجود کاربن کو فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی صورت خارج ہونے سے روکتا ہے۔