روس سمیت متعدد ممالک کی کورونا وائرس کے خلاف تجرباتی دوا کی آزمائش
شائع شدہ تاریخ 08 اپریل, 2020
روس نے انفلوائنزا کے لیے استعمال ہونے والی ایک دوا فیویپیراویر (favipiravir) کو نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے علاج کے لیے آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔ روسی خبررساں ادارے کے مطابق رواں ہفتے اس دوا کی پہلی کھیپ روس پہنچ رہی ہے جس کے بعد اس کی آزمائش شروع کی جائے گی۔ اس دوا کو چین کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے کچھ ممالک اور جاپان میں بھی آزمایا جارہا ہے بلکہ جاپان تو اسے متعدد ممالک کو مفت دینے کا ارادہ بھی رکھتا ہے۔اس دوا کو فیوجی فلم ٹواما کیمیکل کمپنی نے تیار کیا تھا جسے انفلوائنزا سمیت متعدد آر این اے وائرسز کے خلاف موثر دریافت کیا گیا تھا اور 2014 میں اس کی فروخت کی اجازت جاپانی حکومت نے دی تھی۔ چین میں اس دوا کی آزمائش فروری میں شروع ہوئی تھی اور 15 مارچ کو اس کے کلینیکل ٹرائل کی منظوری دے دی گئی تھی اور حکام کا کہنا تھا کہ اب تک مریضوں پر اس کے اثرات بہت زیادہ حوصلہ افزا رہے۔فروری میں شینزن میں ہونے والی تحقیق کے دوران کووڈ 19 کے 320 مریضوں کو اس دوا کا استعمال کرایا گیا اور محققین نے دریافت کیا کہ اس کے نتیجے میں اوسطاً 4 دن میں وائرس کلیئر ہوگیا جبکہ دیگر ادویات کے استعمال سے یہ او سط 11 دن رہی۔ اس دوا کو استعمال کرنے والے 91 فیصد سے زائد مریضوں کے پھیپھڑوں کی حالت میں بھی بہتری دیکھنے میں آئی جو دوسرے گروپ میں 63 فیصد رہی۔محققین کا کہنا تھا کہ ان اعدادوشمار سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دوا وائرس کی صفائی تیزی سے کرتی ہے، بہت کم مضر اثرات اب تک دریافت ہوئے ہیں۔جاپان میں سائنسدانوں کی جانب سے اس پر کلینیکل ٹرائلز تیسرے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں، گزشتہ دنوں شروع ہوئے تھے اور وزیراعظم شینزا ایبے نے حال ہی میں اس دوا کی پیداوار میں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے اس دوا کو کورونا وائرس کے علاج کی حیثیت دینے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ جاپان میں اس دوا پر ٹرائلز کے حتمی نتائج جون تک سامنے آسکتے ہیں اور اس وقت تک جاپانی حکومت کی جانب سے اس کورونا وائرس کے باقاعدہ علاج کی حیثیت دینے کی منصوبہ بندی کی جاسکتی ہے۔فیوجی فلمز نے بھی اس کی پروڈکشن میں تیزی لانے کا اعلان کیا ہے، جبکہ دیگر ممالک سے اشتراک کا عزم بھی ظاہر کیا۔جاپانی وزیر خارجہ توسمیٹسو موٹیگی نے اعلان کیا کہ جاپان کی جانب سے 20 ممالک کو اس دوا کو کووڈ 19 کے علاج کے لیے مفت فراہم کیا جائے گا۔جاپان ٹائمز کے مطاب ان کا کہنا تھا کہ ہم دلچسپی لینے والے ممالک کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور اس بین الاقوامی سطح پر اس دوا کے ٹرائلز کو توسیع دیں گے۔ ان ممالک میں انڈونیشیا، ایران، سعودی عرب اور ترکی بھی شامل ہیں۔روس کے براہ راست سرمایہ کاری فنڈ کے سی ای او کیرل دیمیترف کا کہنا تھا کہ چین میں ہمارے ساتھیوں نے اس دوا کے کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے حوالے سے مثبت نتائج ظاہر کیے ہیں، اس دوا کو روس میں متاثرہ افراد کے علاج کے لیے استعمال کیا جائے گا۔امریکا کی جانب سے بھی اس دوا میں دلچسپی ظاہر کی گئی ہے۔