چین نے دنیا کے طاقتور ترین سپر کمپیوٹر کا اعزاز امریکا سے چھین لیا
شائع شدہ تاریخ 24 جون, 2026
اس کامیابی کو مزید غیرمعمولی اس لیے سمجھا جا رہا ہے کیونکہ چین نے یہ مشین مکمل طور پر مقامی ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کی ہے۔ امریکی پابندیوں کے باوجود چینی انجینئرز نے اپنے تیار کردہ چپس، سافٹ ویئر اور نیٹ ورکنگ سسٹمز استعمال کرکے ثابت کیا ہے کہ ملک جدید ٹیکنالوجی میں خودکفالت کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
چین آخری مرتبہ 2017 میں دنیا کے طاقتور ترین سپر کمپیوٹر کا اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔ تاہم، اس وقت استعمال ہونے والی مشینوں میں کچھ غیر ملکی ٹیکنالوجی بھی شامل تھی۔ اس بار صورتحال مختلف ہے اور اسے چین کی ٹیکنالوجیکل خودمختاری کی ایک بڑی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق سپر کمپیوٹر میں ہواوے کہ تیار کردہ چپس اور مقامی نیٹ ورکنگ آلات استعمال کیے گئے ہیں۔ سپر کمپیوٹرز عام کمپیوٹرز سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتے ہیں اور ہزاروں پراسیسرز کی مدد سے انتہائی پیچیدہ سائنسی، طبی اور صنعتی حساب کتاب انجام دیتے ہیں۔
اس سے قبل امریکا کا ایل کیپٹن دنیا کا سب سے طاقتور ترین سپر کمپیوٹر تصور کیا جاتا تھا اور تقریباً 18 ماہ تک سر فہرست رہا۔ تاہم، نئی درجہ بندی کے مطابق چینی مشین کی رفتار 2.2 ایکسافلاپس تک پہنچ گئی ہے، جبکہ امریکی سپر کمپیوٹر 1.8 ایکسافلاپس کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ پیش رفت نہ صرف سپر کمپیوٹنگ کی دوڑ میں چین کی برتری کو ظاہر کرتی ہے بلکہ امریکا اور چین کے درمیان جاری ٹیکنالوجی مقابلے میں ایک اہم سنگ میل بھی سمجھی جا رہی ہے۔