بلاول بھٹو نے آزاد کشمیر انتخابات پر شدید تحفظات کا اظہار کر دیا

شائع شدہ تاریخ 28 جولائی, 2026
بلاول-بھٹو-نے-آزاد-کشمیر-انتخابات-پر-شدید-تحفظات-کا-اظہار-کر-دیا

مظفرآباد میں پیپلز پارٹی کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا آزاد کشمیر میں جو ہو رہا ہےکیا ہم اسے جمہوریت کا نام دے سکتے ہیں، میرپورکے عوام کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اپنے ووٹ سے پیپلز پارٹی کو اکثریت دلوائی، لیکن لگ رہا ہے ریاست کا ہر فیصلہ ن لیگ کو ترجیح دے رہا ہے، اس کا نقصان کشمیر، پاکستان اور اس کے عوام کا ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا ریاست کو فیصلہ کرنا ہے کہ ان کے لیے قومی مفاد زیادہ اہم ہے یا ن لیگ کا مفاد، ہم قومی مفاد میں ریاست پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، ن لیگ کے مفاد میں نہیں، آنکھیں کھولیں، ن لیگ کے مفاد کے نام پر پاکستان کا کیا حال ہوا، کشمیر کے ساتھ کیا کر رہے ہیں، یہ آزاد کشمیر ہے، اسےکبھی بھی مقبوضہ کشمیر نہیں بننے دیں گے، کیا چاہتے ہیں کہ پونچھ آزاد کشمیر کا نہیں مقبوضہ کشمیر کا لگے۔

انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ بند کرنے سے یہ آزاد کشمیر نہیں مقبوضہ کشمیر لگے گا، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ تمام سیاسی پارٹیاں بیوقوف ہیں، کیا کشمیر کے عوام نہیں جانتےکہ ان کے ساتھ آپ کیا کر رہے ہیں، یہ دھاندلی کی کہانی آج سے شروع نہیں ہوئی، قومی مفاد کو دھکیل کر ن لیگ کے مفاد کو ترجیح دینا آج سے شروع نہیں ہوا، ہمیں چاہیے کہ صاف و شفاف الیکشن کرائیں، کشمیر کاز کو بچانے کے لیے پیپلزپارٹی کی مفاہمتی پالیسی تسلیم کرنا پڑےگی۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا ہم اپنے ہی ساتھیوں کی جانیں ضائع ہوتے نہیں دیکھ سکتے، آپ نے پیپلز پارٹی کے کارکن کو مارا لیکن اس کے باوجود ان کی تمام کوششیں ناکام ہوئیں، میں انہیں نہیں چھوڑوں گا، آپ کو حق دلاکر رہوں گا۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا سکیورٹی کے باوجود 30 پولنگ اسٹیشنز پر حملے کیسے ہوئے؟ ایک دو حلقوں پر ہو جائے تو مان لیں، پورے 30 پولنگ اسٹیشنز پر حملے کیسے مان لیں، آپ نے مرحلہ وار الیکشن دھاندلی کے لیے کرائے، ان لوگوں نے وہی کام کیا جو انہوں نےپچھلے الیکشن میں کیا تھا، اب کسی کو اپنے حق پر ڈاکہ ڈالنے نہیں دیں گے.