Home / پاکستان / انٹربینک میں ڈالربلند ترین سطح پر پہنچ گیا

انٹربینک میں ڈالربلند ترین سطح پر پہنچ گیا

انٹربینک میں ڈالرتاریخ میں پہلی بار 191 روپے کا ہوگیا ہے۔

بارہ مئی بروز جمعرات کو انٹربینک میں دوران ٹریڈنگ ڈالر98 پیسے مہنگا ہوگیا ہے۔

اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی فروخت 193روپے کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی۔

کرنسی ڈیلرز نے بتایا ہے کہ اسٹیٹ بینک اورموجودہ حکومت روپے کی قدرسنبھالنے کیلئےاقدامات نہیں کررہے ہیں۔

ماہرین کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ نئے قرض کے حصول اورموجودہ قرض کے رول اوور ہونےمیں تاخیر روپے کی قدر گرا رہی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 7 اپریل کو بھی ٹریڈنگ کے دوران ڈالر 190 روپے کو چھو کر واپس آگیا تھا لیکن تقریباً ایک ماہ بعد بدھ کو ڈالر 190 ڈالر کے ریکارڈ کو توڑنے میں کامیاب ہوگیا۔

گیارہ مئی کو اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر 2 روپے اضافے سے 192 روپے کی سطح پر پہنچ گیا تھا جبکہ ٹریڈنگ کے دوران 192.50 روپے فروخت ہونے کی بھی اطلاعات تھیں۔

واضح رہے کہ اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر 7 اپریل کو 190 روپے کی سطح پر پہنچ گیا تھا جو بلند ترین قیمت کا ریکارڈ تھا، اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی بلند ترین قیمت کا یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ چکا ہے۔

ڈیلرز کے مطابق کرنسی مارکیٹوں میں پچھلے چند روز سے غیر معمولی صورتحال ہے، ڈالر کی طلب بڑھ رہی ہے، بیچنے والوں سے خریدنے والے زیادہ ہیں، جس کے باعث انٹر بینک اور اوپن مارکیٹوں میں منافع کا مارجن بھی بڑھ گیا ہے، عام طور پر ڈالر قیمت خرید سے 20 پیسے مہنگا بیچا جاتا ہے لیکن موجودہ صورتحال کی وجہ سے کرنسی ڈیلرز کا منافع مارجن ایک سے ڈیڑھ روپے تک پہنچ گیا ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہونے اور بعد ازاں آئینی بحران پیدا ہونے کے باعث گزشتہ ماہ اپریل میں ڈالر کی قدر بڑھتے ہوئے 7 اپریل کو 190 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی تاہم بعد ازاں معاملات حل ہونے پر پاکستانی روپے کی ریکوری کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا لیکن چند روز سے ایک بار پھر ڈالر کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، تقریباً ایک ماہ بعد ڈالر اسی سطح پر پہنچ گیا۔

اوپن مارکیٹ میں عید سے قبل ڈالر کی قدر 186.50 روپے تھی جو عید کے بعد 4 روز کے دوران 191.50 روپے تک پہنچ گئی،اس دوران نرخ میں 5 روپے اضافہ ہوا۔

فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان کے مطابق ملکی معیشت کو اس وقت کئی چینلجز کا سامنا ہے، جس میں بڑھتا بجٹ خسارہ، مہنگائی، تجارتی و کرنٹ خسارہ شامل ہے، دوسری جانب آئی ایم ایف سے مذاکرات میں بھی ابہام پایا جارہا ہے، جس کے باعث ڈالر کا دباؤ پھر بڑھ گیا ہے۔

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے ملک بوستان نے بتایا تھا کہ 18 مئی کو دوحہ میں آئی ایم ایف مذاکرات پر سب کی نظریں ہیں جبکہ 20 مئی کو تحریک انصاف کی جانب سے لانگ مارچ کے اعلان کی وجہ سے بھی غیر یقینی صورتحال ہے جو اسٹاک اور کرنسی مارکیٹوں پر اثر انداز ہورہی ہے۔

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ کے مطابق ڈالر کی قدر میں ایک روپے اضافے سے بیرونی قرضوں کے بوجھ میں بھی اربوں روپے کا اضافہ ہوجاتا ہے جبکہ مہنگائی بھی بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کو مل کر ملک میں معاشی اور سیاسی عدم استحکام کے خاتمے کیلئے کوششیں کرنی چاہئیں۔

About Junaid

Check Also

Journalist Imran Riaz Khan arrested from Islamabad Toll Plaza

صحافی عمران ریاض خان اسلام آباد ٹول پلازہ سے گرفتار

سینئر صحافی عمران ریاض خان کو اسلام آباد ٹول پلازہ سے گرفتار کرلیا گیا۔ اے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *