Home / انٹرنیشنل / تجربات کے دوران کروناویکسین کے امیدافزاء نتائج آئے، کمپنی کادعویٰ

تجربات کے دوران کروناویکسین کے امیدافزاء نتائج آئے، کمپنی کادعویٰ

امریکی کمپنی ماڈرنا کی تیار کردہ کرونا وائرس کی ویکسین لوگوں کو لگائے جانے کے اعتبار سے محفوظ اور ان میں اس وائرس کیخلاف مدافعت پیدا کرنے کیلئے کارآمد پائی گئی ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق ویکسین بنانے والی کمپنی ماڈرنا نے دعویٰ کیا ہے کہ ان نتائج کی بنیاد اس تجربے پر ہے جس کے تحت 8 افراد کو دو ڈوز دیئے گئے جس کا آغاز مارچ کے مہینے سے ہوا تھا، وہ صحت مند افراد 18 سے 55 سال کی عمر کے تھے جن میں وہ اینٹی باڈیز بنیں جو اس وائرس کی روک تھام کا ذریعہ ہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ نتائج کے مطابق اینٹی باڈیز ان افراد میں پائی جانے والی اینٹی باڈیز کے برابر یا اس سے بھی زیادہ تھیں جو اس وائرس سے متاثر ہونے کے بعد صحتیاب ہوئے ہیں۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ گو یہ نتائج امید افزاء ہیں تاہم وسیع اور طویل ترین اسٹڈی کے بعد یہ طے ہوسکے گا کہ یہ لوگوں کو اس وائرس سے بیمار ہونے سے بچا سکے گی یا نہیں۔

ماڈرنا نے یہ ویکسین امریکا کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے ذیلی ادارے  نیشنل انسٹیٹیوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشز ڈیزیزز کے اشتراک سے تیار کی ہے۔

علاوہ ازیں دنیا کے درجنوں ادارے بھی کرونا وائرس کی ویکسین کی تیاری کی دوڑ میں شامل ہیں۔ اس حوالے سے فائزر کمپنی اور اس کے جرمن پارٹنر بایو این ٹیک، چینی کمپنی کین سینو اور آکسفورڈ یونیورسٹی نے ویکسین کا انسانوں پر تجربات کا آغاز بھی کردیا ہے۔

واضح رہے کہ فی الوقت دنیا میں کرونا وائرس کا کوئی تصدیق شدہ علاج یا اس سے بچاؤ کی کوئی ویکسین دستیاب نہیں ہے۔

دریں اثناء دنیا میں یہ خدشات بھی پائے جاتے ہیں کہ ویکسین کی تیاری میں عجلت کے مظاہرے کے باعث یہ اقدامات بے سود بھی ثابت ہوسکتے ہیں یا ایسی ویکسین کے استعمال سے لوگوں کو الٹا نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔ ویکسینز عموماً برسوں میں جاکر تیار ہوتی ہیں اور کبھی اس کے مارکیٹ میں آنے تک ایک دہائی کا عرصہ بھی لگ جاتا ہے۔

ویکسین کی تیاری کے اس وقت طلب عمل کے دوران بڑے پیمانے پر ٹرائل اور ہزاروں انسانوں پر اس کا تجربہ ہوتا ہے اور پھر یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس سے انفیکشن رکتا ہے یا نہیں اور اس بات کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے کہ اس سے بیماری کی نوعیت کہیں مزید شدید نہ ہوجائے۔

ماڈرنا کی تحقیق کا پہلا مرحلہ ابھی جاری ہے اور ویکسین کے تجربے کیلئے مزید دو ایج گروپ کے افراد کا اندراج کیا جارہا ہے، جن کی عمریں 55 سال سے 70 سال کے درمیان اور 70 سال اور اس سے زائد ہوں گی۔

البتہ ان ابتدائی ٹیسٹس کے نتائج ابھی شائع یا عوامی طور پر ان کا اعلان نہیں ہوا ہے تاہم ان نتائج کو فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کو جمع کرادیا گیا ہے جس نے ان جاری ٹیسٹس پر فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ جب یہ ٹیسٹ موسم گرما میں اپنے حتمی مرحلے میں داخل ہوجائیں گے تب متوقع طور پر یہ ڈیٹا پبلک کردیا جائے گا۔

ماڈرنا کا کہنا ہے کہ یہ کام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور ٹیسٹنگ کا دوسرا مرحلہ جس میں 600 رضاکاروں پر تجربات ہونگے جلد ہی شروع کردیا جائے گا جبکہ تیسرا مرحلہ جولائی میں ہوگا جس کے دوران ہزاروں صحت مند افراد پر اس ویکسین کا تجربہ کیا جائے گا۔ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن حال ہی میں ماڈرنا کو دوسرے مرحلے کی اجازت دے چکی ہے۔

ماڈرنا کے چیف میڈیکل افسر ڈاکٹر تال سکس کے مطابق اگر یہ ٹرائلز احسن طور پر ہوگئے تو ویکسین رواں سال کے آخر تک بڑے پیمانے پر استعمال کیلئے دستیاب ہوجائے گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی حتمی طور پر یہ نہیں بتایا جاسکتا کہ تب تک اس ویکسین کے کتنے ڈوز تیار ہوجائیں گے لیکن ہم اپنی بھرپور کوشش کررہے ہیں کہ کئی ملین ویکسین تیار کرلیں۔

ڈاکٹر سکس کا مزید کہنا تھا کہ چار ہفتے کے وقفے سے ویکسین کے دو شاٹس دیئے جانے کی ضرورت ہوگی، جس کا مطلب ہے کہ جتنی تعداد میں ویکسین تیار ہوں گی اس کی نصف تعداد کے برابر افراد کو لگائی جاسکیں گی۔

About Sehrish Ameen

Check Also

کورونا وائرس ویکسین اس سال دسمبر تک دستیاب ہوسکتی ہے، امریکی ماہر صحت

نیو یارک : امریکہ کے ماہر صحت ڈاکٹر انتھونی فاؤجی نے دعویٰ کیا ہے کہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *