Home / صحت / کیا سُماق دانتوں کو کیڑا لگنے سے بچا سکتا ہے؟

کیا سُماق دانتوں کو کیڑا لگنے سے بچا سکتا ہے؟

مختلف جڑی بوٹیوں اور پودوں سے جہاں قدرت نے زمین کی خوب صورتی بڑھائی اور اسے آراستہ کیا ہے، وہیں یہ انسانوں کی صحت، تن درستی اور علاج معالجے میں بھی مددگار ہیں۔ طب کی دنیا میں جدید طریقہ ہائے علاج سے قبل انہی جڑی بوٹیوں اور مختلف پودوں سے انسان مختلف امراض اور بیماریوں سے نجات پاتا رہا اور ان میں انسان کی غذائی ضروریات پوری کرنے والے پودے بھی شامل ہیں جن کا پھل اور پتے کسی نہ کسی طرح ہماری خوراک کا حصّہ بنتے ہیں۔

سُماق دراصل ایک درخت کے پھل کو کہتے ہیں. یہ سرد اور سخت زمین پر پھلتا پھولتا ہے۔ سماق کا درخت زمین سے دو گز تک بلند ہوسکتا ہے۔ اس کے پتے لمبے اور سرخی مائل ہوتے ہیں جن پر رواں ہوتا ہے۔ اس کا پھول چھوٹا جب کہ پھل خوشوں میں ہوتے ہیں۔ یہ پھل مکو کے پھل کے برابر چپٹا اور مسور کے دانے کی طرح ہوتا ہے۔ اس کے اوپر ایک پوست ہوتا ہے جس کا مزہ ترش ہوتا ہے۔ پھل پک جانے کی صورت میں یہ ترشی بڑھ جاتی ہے۔

طبی ماہرین نے اس کی افادیت کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ معدے کے لیے مفید ہے۔ معدے کی کم زوری دور کرتا ہے۔ متلی اور اسہال کو روکتا ہے۔ اس کے پیٹ سے متعلق فوائد میں آنتوں کے زخم ٹھیک کرنے یا خراش کی صورت میں اس کا استعمال شامل ہے۔ تاہم اس حوالے سے کسی مستند طبیب سے مشورہ کرنا چاہیے۔ یہ دانتوں کو کیڑے سے محفوظ رکھنے میں بھی مفید بتایا جاتا ہے۔ چوٹ لگنے کی صورت میں ورم ہو جائے تو سماق کا استعمال فائدہ دیتا ہے۔

اس کا جوشاندہ بناکر مخصوص طریقے سے سَر کے بال دھوئے جائیں تو ان میں سیاہی آجاتی ہے۔ نباتات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سماق کا درخت دنیا کے مختلف ملکوں میں ملتا ہے۔ تاہم وسطی ایشیائی ممالک، افریقا اور جنوبی امریکا میں یہ درخت زیادہ نظر آتے ہیں۔ ماہرینِ نباتات کے مطابق سُماق کا مزاج سرد و خشک ہے۔

About Sehrish Ameen

Check Also

ماحولیاتی تحفظ کی کارکن ’گریٹا تھونبرگ‘ کم عمر” ترین پرسن آف دی ایئر” قرار

نیویارک : ماحولیاتی تحفظ کے لیے دنیا بھر میں منفرد شہرت حاصل کرنے والی یورپی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *